حافظ آباد(شوکت علی وٹو)حافظ آباد کے حنیف محمد کرکٹ اسٹیڈیم میں کھلاڑیوں کو مبینہ طور پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کھلاڑیوں کی جانب سے کرکٹ اسٹیڈیم کی صورتحال اور انتظامی معاملات کے حوالے سے متعدد مسائل اور سوال سامنے آئے ہیں۔کھلاڑیوں کے مطابق پویلین کی حالت انتہائی خراب ہے، متعدد کمروں کے شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں، واش رومز کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا. جبکہ نیٹ پریکٹس کی لگی لوہے کی تار بھی خستہ حالی کا شکار ہے۔جگہ جگہ شگاف ہے کھلاڑیوں کی جانب تعینات ملازمین کی مبینہ غیر حاضری اور دیگر انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، کھلاڑیوں کا سوال ہے کہ اسٹیڈیم کے لیے مختص فنڈز کہاں اور کس طرح خرچ ہو رہے ہیں؟ اگر فنڈز کا درست استعمال ہو رہا ہے تو پویلین سمیت دیگر سہولیات کا فقدان اور اسٹیڈیم کی حالت اتنی خراب کیوں ہے غیر متعلقہ افراد کی جانب سے کھلاڑیوں کو ایک پچ علاوہ دیگر 4 تیار پچ پر کھیلنے سے مبینہ طور پر روکا جاتا ہے، جس پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ افراد کس حیثیت سے پچ کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔کارکردگی کا اس بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پویلین بلڈنگ پر لگا سبز ہلالی پرچم پھٹ کر غائب ہو چکا ہے جبکہ 14 اگست کا پروگرام اسٹیڈیم میں ہوا تھا لیکن اتنی بھی توجہ نہیں کہ 14 اگست پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لگا دیتے جبکہ ہر وقت درست حالت میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا رہنا ضروری ہے.











