جمعرات,  20  اگست 2026ء
نئے صوبے یا بلدیاتی نظام

بلوچستان میں عملاً وہی صورت حال نظر آرہی ہے جو 1970 میں سابقہ  مشرقی پاکستان میں تھی دوسری طرف خیبر پختونخوا میں دہشت گردی زوروں پر ہے ۔ صوبے کے جنوبی اضلاع میں حکومت کی رٹ ڈانواں ڈول دکھائی دے رہی ہے ۔ پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کا راج ہے اور ان علاقوں میں کسی کو بھی تحفظ حاصل نہیں ۔ ملک کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ بجلی انتہائی مہنگی ہونے کے باوجود ناپید ہے اور چھوٹے شہروں ، قصبوں اور خاص طور پر دیہات میں گھنٹوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ۔ کبھی گندم تو کبھی چینی غائب اور پھر اس کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا جاتا ہے اور پاکستان ایک زرعی ملک ہے کا راگ الاپنے والے گندم ، دالیں اور خوردنی تیل وغیرہ امپورٹ کر کے اپنے منظور نظر لوگوں کو نوازتے رہتے ہیں ۔ مئی ، جون میں ملک میں گندم کی کٹائی اور گہائی کا کام ہوا اور کہا گیا کہ اس سال ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے لیکن لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد آٹے کی قیمتیں بڑھنے لگیں ۔ لیکن ان تمام مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے حکومت نے وہی پرانا نسخہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے کہ قوم کو نان ایشو میں الجھایا جائے لہذا پچھلے دنوں وفاقی وزیر داخلہ نے یہ پھلجڑی چھوڑی کہ ملک کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے اور اب یہ چلنے کے قابل نہیں ہے اور یہ کہ ملک کو انتظامی سطع پر چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے ۔ ان کے اس بیان کے بعد ملک بھر میں بحث و مباحثے کا ایک طوفان امڈ آیا کہ نئے صوبے بننے چاہیے کہ نہیں؟ سب یہ بھول گئے کہ پاکستان اس وقت کن مشکلات کا شکار ہے پہلے ان کا حل ضروری ہے یا کہ نئے صوبے بنانا ۔ کیا نئے صوبے بننے سے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی لڑائی ختم ہو جائیگی ؟ کیا نئے صوبے بنانے کے بعد پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا ؟ کیا نئے صوبوں کے قیام کے بعد پاکستان زراعت میں ترقی کرنے لگے گا اور گندم ، گنے ، مکئی ، خوردنی تیل وغیرہ کی بہتات ہو جائیگی ؟

کیا ملک میں بجلی کی قیمتوں میں کمی جائیگی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا ؟ کیا بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے گا اور ملکی معیشت ترقی کرنے لگی گی ؟ ان سوالات کا جواب کسی لیڈر کے پاس نہیں ہے سب نیوز چینلز پر بیٹھ کر نئے صوبوں کے قیام کے حق میں اور مخالفت میں دلائل دے رہے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں کہ رہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا ؟

ملک کی ترقی کے لیے سوچنے والے مخلص لوگوں کا بار بار یہ کہنا ہے کہ جب تک ملک میں ایک آزادانہ اور با اختیار بلدیاتی نظام قائم نہیں ہوتا یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔ عوام کے مسائل کے فوری حل کے لیے بلدیاتی نظام کا ہونا از حد ضروری ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیں کہ ہمارے جمہوری اور سیاسی حکمرانوں کو بلدیاتی نظام سے خدا واسطے کا بیر ہے اور پاکستان میں بلدیاتی نظام کی حوصلہ افزائی ہمیشہ فوجی حکمرانوں نے ہی کی ہے اور وہ جیسے ہی حکومت چھوڑتے ہیں بلدیاتی نظام بھی دفن کر دیا جاتا ہے ۔ ملک میں نئے صوبے بنانا بعد کی بات ہے صرف اگر ملک میں بلدیاتی نظام جو پوری طرح سے با اختیار ہو چلنا شروع ہو جائے تو عوام کا بہت بھلا ہوگا ۔

 تحریر: داؤد درانی

مزید خبریں