منگل,  28 جولائی 2026ء
کشمیر کے الیکشن، فارم 47 اور کارکنوں کا خون
میں اور میرا دوست

میرے دوست نے موبائل میرے سامنے رکھا۔ اسکرین پر آزاد کشمیر کے انتخابات کی خبریں چل رہی تھیں۔ ایک خبر میں بتایا جا رہا تھا کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر پولنگ بوتھ کو آگ لگا دی گئی۔ دوسری خبر میں کہا گیا کہ ایل اے 6 بھمبر سماہنی کے پولنگ اسٹیشن نمبر 161 میں آگ لگا دی گئی۔ پھر خبر آئی کہ دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں کشیدگی کے بعد صورتحال خراب ہو گئی۔ اور قتل ہوگیا۔اس کے بعد سکرین پر خون، زخمی کارکنوں، روتے ہوئے خاندانوں اور سیاسی بیانات کی خبریں مسلسل چلتی رہیں۔

میرے دوست نے ایک گہرا سانس لیا اور پوچھا:
“اگر آخرکار الیکشن کے نتائج پر ہر شکست خوردہ جماعت فارم 47 کے ذریعے سلیکشن کا الزام ہی لگانے والی ہے، تو پھر یہ آگ کس لیے؟ یہ گولیاں کیوں؟ یہ لاٹھیاں کیوں؟ یہ قتل کیوں؟”
میں خاموش ہو گیا۔

یہ سوال صرف آزاد کشمیر کا نہیں، پورے پاکستان کی سیاست کا سوال ہے۔
اگر کارکنوں کو پہلے ہی یقین ہے کہ ان کا ووٹ محفوظ نہیں، اگر ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات لگنے ہیں، اگر ہر جماعت اقتدار میں آ کر انتخابات کو شفاف اور اپوزیشن میں آ کر انہیں متنازع قرار دیتی ہے، تو پھر ایک عام کارکن اپنی جان کیوں قربان کرتا ہے؟

یا اتنا جذباتی اور شدت پسند کیوں ہو جاتا ہے؟؟ کہ وہ جان لے بھی سکتا اور جان دے بھی سکتا؟؟
کیا یہ جان ووٹ سے زیادہ ضروری نہیں۔ جب فارم 47 کی بات ہو۔ تو پھر جان لینا اور دینا کیوں؟؟؟

کیا کسی سیاسی جماعت کا جھنڈا ایک انسان کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے؟
ہرگز نہیں۔
آج جو نوجوان سڑک پر مارا گیا، وہ صرف ایک کارکن نہیں تھا۔ وہ کسی ماں کی آنکھوں کا نور تھا۔ کسی باپ کے بڑھاپے کا سہارا تھا۔
اسی طرح جب جوان کارکن سیاست کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔
تو وہ محض ایک کارکن ہی نہیں ہوتا۔۔ کسی کا باپ تو کسی بیٹا
شاید وہ اپنے گھر کا اکلوتا بیٹا ہو۔ شاید اس کی منگنی ہو چکی ہو۔ شاید اس کی گود میں ننھے بچے اس کے گھر آنے کے منتظر ہوں۔ شاید اس کے بوڑھے والدین اس کی کمائی سے اپنا چولہا جلاتے ہوں۔

مگر سیاست نے ان سب خوابوں کو ایک لمحے میں دفن کر دیا۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جن سیاسی رہنماؤں کے لیے کارکن ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں، وہ چند دن بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیتے ہیں، ایک ہی میز پر بیٹھ جاتے ہیں، اسمبلیوں میں اکٹھے چائے پی لیتے ہیں اور اقتدار کی سیاست میں نئے اتحاد بنا لیتے ہیں۔
لیکن کارکن؟
کوئی قبر میں سو رہا ہوتا ہے، کوئی ہسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے، اور کوئی اپنے بچوں کو باپ کے بغیر زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔
میرا دوست بولا:
“اگر واقعی عوام کی رائے کا احترام مقصود ہے تو پھر ہر ووٹ کی حفاظت ہونی چاہیے، ہر انتخاب شفاف ہونا چاہیے، اور اگر کسی کو نتائج پر اعتراض ہے تو اس کا فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ آگ، گولی اور لاٹھی سے۔”
میں نے اس کی بات سے اتفاق کیا۔
سیاست کا مقصد قوم کو تقسیم کرنا نہیں، جوڑنا ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن نفرت، تشدد اور خونریزی کسی بھی معاشرے کو کمزور کر دیتی ہے۔
یاد رکھیں، اقتدار چند سال کا ہوتا ہے، مگر ایک ماں کی گود ہمیشہ کے لیے اجڑ جاتی ہے۔ ایک بچے کے سر سے باپ کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ ایک بیوہ کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے۔
اس لیے میرے دوست، ووٹ ضرور دو، اپنی رائے ضرور دو، اپنے نظریے پر قائم بھی رہو، لیکن کبھی کسی سیاسی رہنما کے لیے اپنے ہی وطن کے کسی بھائی کا خون مت بہاؤ۔
کیونکہ سیاست بدلتی رہتی ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر ایک انسان کی جان واپس کبھی نہیں آتی۔

مزید خبریں