واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز) وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کو ایران کے شہر مناب میں اسکول پر ہونے والے حملے کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکائی نیوز کے امریکی نمائندے مارک اسٹون نے پوچھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار کیوں کہتے رہے ہیں کہ امریکہ اس حملے کا ذمہ دار نہیں، جبکہ اسکائی نیوز کی تحقیق کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر امریکی فوج کی ایک افسوسناک غلطی کا نتیجہ تھا۔
ذاتی رنجش پر ڈیڑھ سالہ بچی پر قاتلانہ حملہ، ملزم 24 گھنٹوں میں گرفتار
جواب میں کیرولین لیویٹ نے کہا کہ وہ صرف صدر کے مؤقف کی نمائندگی کر سکتی ہیں اور اس واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے سے متعلق مزید سوالات کا جواب محکمہ دفاع دے سکتا ہے۔ لیویٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ امریکی فوج جان بوجھ کر شہریوں یا بچوں کو نشانہ نہیں بناتی، اسی لیے وہ تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مختلف بین الاقوامی تحقیقات اور امریکی میڈیا کی ابتدائی رپورٹس میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مناب کے اسکول پر حملہ پرانی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ مقرر کیے جانے کی وجہ سے ہوا، تاہم امریکی محکمہ دفاع کی حتمی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ اسی معاملے پر امریکی قانون ساز بھی تحقیقات کی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔











