جمعرات,  16 جولائی 2026ء
اسرائیلی فوجی امداد ختم کرنے کے حق میں ڈیموکریٹس کی ریکارڈ تعداد میں ووٹنگ

واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز): امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کی فوجی امداد روکنے کی قرارداد مسترد کر دی، تاہم اس کے حق میں ڈیموکریٹس نے بڑی تعداد میں ووٹ دیا جو غیر معمولی بات تھی۔

امریکی اسرائیلی فوجی امداد ختم کرنے کے حق میں ڈیموکریٹس کی ریکارڈ تعداد میں ووٹنگ کو پارٹی میں تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے، ایوانِ نمائندگان کے 212 ڈیموکریٹ ارکان میں سے تقریباً 103 نے ایک ایسے بل کے حق میں ووٹ دیا جس میں اسرائیل کے لیے امریکی امداد ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

اسرائیل کو 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی ترمیم 210 ووٹوں سے ناکام رہی، ایوان نمائندگان میں ترمیم کے حق میں 104 اور مخالفت میں 314 ووٹ آئے، 103 ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیلی فوجی امداد روکنے کی ترمیم کی حمایت کی، جب کہ خود ری پبلکن رکن تھامس میسی نے اسرائیل کی فوجی امداد روکنے کی ترمیم پیش کی تھی۔

ٹرمپ کا زمینی فوج بھیجنے پر غور، کیا امریکا ایران پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے؟

کانگریس کی رکن الہان عمر نے اس ووٹ کو ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا۔ انھوں نے ایکس (X) پر لکھا ’’ڈیموکریٹس کی ریکارڈ تعداد نے اس ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیا، کیوں کہ لاکھوں لوگوں نے آواز اٹھائی، منظم ہوئے اور خاموش رہنے سے انکار کیا۔ ہماری تحریک فرق پیدا کر رہی ہے۔ منظم ہوتے رہیں، طاقت کو بڑھاتے رہیں۔‘‘

کانگریس کی رکن سمر لی نے اس ووٹ کو ’’پارٹی میں تبدیلی‘‘ قرار دیا، اور کہا کہ ’’کانگریس کے کسی بھی رکن کے لیے یہ ناقابلِ قبول ہے کہ وہ ایسی کسی بھی امداد بھیجنے کا جواز پیش کرے جو اسرائیل کی نسل کشی کو تقویت دے۔‘‘

دریں اثنا، کانگریس رکن رو کھنّا نے کہا کہ وہ سابق قانون سازوں جمال بومن اور کوری بش کی ’’جرأت‘‘ کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں، جنھوں نے دو سال قبل اسی مؤقف پر کھڑے ہونے کی وجہ سے اپنی نشستیں کھو دی تھیں۔ انھوں نے مزید کہا ’’جیسا کہ ایک ساتھی نے مجھے کہا، امریکا میں سیاہ فام افراد کی قربانی کو معمول بنا دیا گیا ہے۔‘‘

مزید خبریں