اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وزارت داخلہ کی جانب سے دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے نئی سفری گائیڈ لائنز کے اجرا کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
نئی ہدایات کے مطابق بیرون ملک سے پاکستان آنے والے افراد کے لیے غیر ملکی پاسپورٹ کے ساتھ کارآمد (Valid) نائیکوپ یا پاکستانی ویزا رکھنا ضروری ہوگا، جبکہ زائدالمیعاد یا منسوخ شدہ نائیکوپ کے حوالے سے بھی وضاحت کی جا رہی ہے۔
کئی صارفین نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلوں سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض افراد نے سوال اٹھایا کہ اگر نائیکوپ صرف زائدالمیعاد ہے تو اس کا مطلب شہریت ختم ہونا نہیں، اس لیے قواعد میں واضح فرق ہونا چاہیے۔
کچھ صارفین نے حکومت کے فیصلے کی حمایت بھی کی اور اسے دیگر ممالک کے سفری قوانین کے مطابق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شناختی دستاویزات کا درست اور فعال ہونا ضروری ہے تاکہ امیگریشن نظام بہتر طریقے سے کام کر سکے۔
پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے لیے قرارداد پیش
سوشل میڈیا پر بعض اوورسیز پاکستانیوں نے جذباتی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان آنے کے بجائے بیرون ملک رہنے کو ترجیح دیں گے، جبکہ کچھ صارفین نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والے ترسیلاتِ زر کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب کچھ لوگوں نے وضاحت کی کہ نائیکوپ منسوخ ہونے کی صورت میں صورتحال مختلف ہوتی ہے، جبکہ صرف میعاد ختم ہونے والا نائیکوپ رکھنے والا شخص اب بھی پاکستانی شہری رہتا ہے اور اسے متعلقہ دستاویزات کے ساتھ سفر کی اجازت ہونی چاہیے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور نئی ہدایات تمام ہوائی اڈوں پر نافذ کر دی گئی ہیں۔











