جمعرات,  09 جولائی 2026ء
جنگ دوبارہ شروع نہیں ہو رہی، ایران کو دس گنا زیادہ جواب دیتے رہیں گے، ٹرمپ کی وضاحت

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے نہیں جا رہی۔ صرف یہ ہوا ہے کہ ایران نے دو جہازوں پر حملے کئے تو ہم نے انہیں بہت زور سے مارا ہے۔ وہ جب بھی  کوئی حملہ کریں گے، ہم انہیں دس گنا زیادہ شدید حملے  سے جواب دیں گے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ وضاحت اپنے گزشتہ اعلانات کے بعد کی ہے جن میں ایران کے ساتھ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ ختم ہونے اور کل منگل کی رات  ایرانی پاسداران کے ہرمز میں دو جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کی تنصیبات پر کل رات کے حملوں کے بعد آج رات مزید حملوں کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے آج  ایران پر مزید حملوں کے اعلان کے عد نیونارک اور لندن کی کروڈ آئل مارکیٹ میں قیمت پانچ فیسد سے زیادہ برھ گئی جب کہ امریکہ اور دنیا کی متعدد سٹاک مارکیٹوں میں سینکڑوں کمپنیوں کے شئیرز کی قیمتیں گر گئیں۔ ی ہقیاس آرائیاں کی جانے لگیں کہ امریکہ اور ایران کے ای کدوسرے پر حالیہ حملے بڑھ کر ایک بار پھر فل سکیل جنگ تک جا سکتے ہیں۔

اب صدر ٹرمپ نے یہ کہا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ ایران جنگ “دوبارہ شروع ہونے والی ہے”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ جنگ بندی کی لچک پر شکوک و شبہات کے باوجود ایران جنگ “دوبارہ شروع ہونے والی ہے”۔

“مجھے نہیں لگتا کہ یہ دوبارہ شروع ہونے والا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت تیزی سے آگے بڑھنے والا ہے۔ انہوں نے دو جہازوں پر حملے کئے،  اور اس لیے ہم نے انہیں بہت زیادہ زور سے مارا۔ جب وہ  سٹرائیک کریں گے تو ہم  10 گنا زیادہ زور سے ان پر جوابی سٹرائیکس کریں گے۔ آپ کو معلوم ہے۔ ہم نے ان سے بہت زیادہ مارا،”

اردوان بھی نہیں چاہتے کہ ایران جوہری طاقت بنے، ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے یہ وضاحت آج انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں اس وقت کی جب کسی جرنلسٹ نے ان سے براہ راست یہ سوال پوچھا کہ کیا ایران کے ساتھ  امریکہ کی جنگ دوبارہ شروع ہو گی۔

صدر ٹرمپ  نے یہ نہیں کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی اپنی  وارننگ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں،  انہوں نے کہا کہ “ہم ان کی زبان استعمال کرتے ہیں۔”

“میرے خیال میں جو کچھ بھی ہو گا  وہ بہت جلد ختم ہونے والا ہے، اور ہم صرف … اسے محفوظ بنائیں گے، بشمول تیل؛ تیل (کروڈ آئل) بہت مفت، بہت آسان اور آسان ہونے والا ہے، اور یہ بہت تیزی سے ہونے والا ہے،” انہوں نے مزید کہا، “ہم طویل مدتی (جنگ) کی تلاش نہیں کر رہے ہیں۔”

یہ بھی پڑھیئے:  ایران کا جزیرہ خرگ اتنا اہم کیوں ہے؟

یہ تبصرے اس سے قدرے مثبت لہجے میں ہیں جب انہوں نے پہلے کہا تھا کہ تین ہفتے قبل ایران کے ساتھ  ہونے والا جنگ ​​بندی کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ جنگ بندی کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں پر براہ راست حملے کے بعد سامنے آیا۔ ایران کی جانب سے ان حملوں کی بظاہر وجہ یہ تھی کہ یہ جہاز اس راستے پر نہیں تھے جو ایران نے اپنی طرف سے آبنائے ہرمز میں آنے والے جہازوں کے لئے مقرر کیا ہے اور جہاں وہ  جہازوں کی آمد و رفت پر ٹول ٹیکس حاصل ہونے کی توقع رکھتا ہے۔ ایران کی اس خواہش کے برعکس امریکہ بحری جہازوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ عمان کی سمندری حدود میں آنے  والے علاقہ سے آبنائے ہرمز کو عبور کریں۔ جب بعض بحری جہازوں نے ایسا کیا تو انہیں ایران کی طرف سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد امریک ہاور ایران میں ایک بار پھر جنگ جیسی کیفیت پیدا ہو گئی۔

اس دوران ایران کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ انہوں نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں سلمان پورٹ، بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے اور کویت میں علی السلم ایئر بیس پر 85 اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
آئی آر جی سی نے کہا کہ اس نے بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی مقامات پر میزائل اور ڈرون داغے، آپریشن کے دوران ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو بھی مار گرایا۔ کویت نے کہا کہ فضائی دفاع نے ایرانی ڈرونز اور دو میزائلوں کو روکا، جب کہ بحرین نے کہا کہ ایرانی حملے سے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مزید خبریں