جمعرات,  09 جولائی 2026ء
پاکستان میں مہنگائی بلکہ ناجائز مہنگائی
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے

پاکستان میں مہنگائی میں کمی دیوانے کا خواب ہی دکھائی دے رہی ہے ۔ ایک تو وہ مہنگائی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساری دنیا میں آ رہی ہے جیسا کہ آج سے پچاس سال قبل دنیا بھر میں سونے ، چاندی ، گندم ، گھی اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بہت کم تھیں اور آج وہ کہاں پہنچ گئی ہیں ۔ آج جب ہم اپنے بچوں کو ماضی کی قیمتیں بتاتے ہیں تو وہ ہمارے دماغی حالت پر شک کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح ہم بچپن میں اپنے بڑوں سے جب ان کے بچپن کے زمانے میں مختلف اشیاء کی قیمتوں کے بارے میں سن کر ہم حیران ہو جاتے تھے ۔

یہ تو حقیقی مہنگائی ہوتی ہے لیکن دوسری شکل مہنگائی کی مصنوعی مہنگائی کی ہوتی ہے جو پاکستان میں عام ہے ۔ تاجر مختلف بہانے بنا کر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرکے تھوڑے وقت میں ناجائز منافع کماتے ہیں جبکہ ان کو روکنے والے سرکاری ادارے خاموشی سے غریب عوام کے لٹنے کا تماشہ دیکھتے رہتے ہیں اور حکمران مصنوعی مہنگائی کی طرح مصنوعی نعرے لگا کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو بھی ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی وغیرہ ۔

سرکاری اداروں کی خاموشی بھی بلا وجہ نہیں ہوتی در اصل انہیں اس ناجائز منافع خوری میں اپنا حصہ ملتا رہتا ہے تو وہ کیوں اس کے خلاف کاروائی کریں۔ اس وقت اس خطے میں پاکستان میں دوائیوں کی قیمتیں سب سے ذیادہ ہیں اور ایک ہی کمپنی کی دوائی جو بھارت میں سو وپے کی ملتی ہے پاکستان میں پانچ سو روپے کی ملتی ہے لیکن اس حوالے سے متعلقہ وزارت خاموش بیٹھی ہوتی ہے کیونکہ اس ناجائز منافع خوری سے دوائیوں کی کمپنیاں جو اربوں روپے ناجائز کماتی ہیں اس میں سے ایک معقول حصہ ” حصہ داروں” کو ملتا رہتا ہے لہذا عوام بیچارے جتنا بھی روئیں ، پیٹیں اور چلائیں ہوتا وہی ہے جو دوائیوں کی کمپنیاں چاہتی ہیں ۔

دوائیاں مہنگی کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اچانک کوئی جان بچانے والی دوائی مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہے اور لوگ انتہائی پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب ہم کیا کریں اور پھر وہی دوائی مہنگے داموں جب مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہے تو لوگ اسے سونے کے بھاؤ خریدنے کے لیے تیار ہوتے ہیں کیونکہ انکی اپنی یا انکے پیاروں کی زندگی اس دوائی کی عدم دستیابی کی وجہ سے داؤ پر لگی ہوتی ہے ۔

یہی حال اشیائے خوردونوش کا ہے جن کے بغیر جینا ممکن نہیں ہوتا لہذا ناجائز منافع خور کبھی آٹا کبھی گھی کبھی چینی یا دوسری خوارک کی چیزیں منڈی سے غائب کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ انہیں مجبوراً مہنگے داموں پر بھی خریدنے پر تیار ہوتے ہیں ۔ چینی کی مثال سب کے سامنے ہے جب قریباً ہر سال گنے کی کرشنگ کے سیزن کے بعد شوگر ملز مالکان یہ واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ ان کے پاس چینی کا ملکی ضرورت سے زیادہ کا سٹاک موجود ہے اس لیے حکومت انہیں یہ زائد چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے جس سے ملک کو قیمتی زر مبادلہ بھی مل سکے گا ۔
چونکہ شوگر ملز مالکان کی بڑی تعداد ہمیشہ حکومتی ایوانوں میں موجود ہوتی ہے اس لیے انہیں فوراً اجازت دے دی جاتی ہے اور پھر چند ہی مہینوں کے بعد ملک میں چینی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے اور چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں تب حکومت عوام کے مفاد میں چینی کی امپورٹ کی اجازت دے دیتی ہے لہذا وہی لوگ جنہوں نے چینی کی ایکسپورٹ میں اربوں روپے کمائے ہوتے ہیں اب امپورٹ میں کمانے لگتے ہیں یعنی “چپڑی اور دو دو ” بلکہ ہم تو کہیں گے کہ تین ، تین اور چار چار ۔

اور اب تو ظلم کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے بھی ناجائز آمدن کا مزہ چکھ لیا ہے سو ہر کچھ عرصے کے بعد غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے ۔ بڑے بڑے سرمایہ دار مثلآ تاجر ، صنعت کار اور جاگیر دار جو ہر سال اربوں روپے کماتے ہیں ان سے اتنا انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا جتنا ملک کے تنخواہ دار طبقے سے لیا جاتا ہے ۔ اسی طرح پیٹرولیم لیوی کے نام پر حکومت اس وقت بڑی آسانی سے اربوں، کھربوں روپے کما رہی ہے ۔
اگر ملک کے بڑے بڑے سرمایہ داروں سے قانون کے مطابق جائز ٹیکس وصول کیا جائے تو پھر پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے اور ملک میں تیل کی قیمتوں میں کافی کمی آ سکتی ہے ۔
ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی ایک وجہ آئے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہے ۔
اگر ہماری معیشت دباؤ کا شکار نا ہوتی اور ہم آئی ایم ایف کے غلام نا ہوتے تو اس وقت ملک میں تیل کی قیمتیں دو سو روپے سے بھی کم ہوتیں جس کی وجہ سے مہنگائی بھی آج آسمان سے باتیں نا کرتی ۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنائے تاکہ عام لوگوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جا سکے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران طبقہ اور بڑے سرکاری افسران جس میں خاص طور پر دفاع اور عدلیہ شامل ہیں اپنے بے تحاشہ اور تا عمر مراعات میں کمی کریں تاکہ ملکی معیشت سانس لے سکے اور پاکستان کے عام لوگوں کو جینے کا حق مل سکے ورنہ غیر ملکی مالیاتی ادارے اسی طرح ہماری گردنوں پر سوار ہوتے رہینگے اور ہمارے ملک کا مراعت یافتہ طبقہ تو عیاشی کرتا رہے گا مگر عام لوگ تباہی کا شکار ہوتے جائیںگے اور “تنگ آمد بجنگ آمد” کی صورتحال بن گئی تو اس بالائی طبقے کے لیے اپنی جانیں بچانا ممکن نہیں ہوگا ۔

داؤد درانی

مزید خبریں