انقرہ (روشن پاکستان نیوز ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان بھی نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔
منگل کے روز انقرہ میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ترکی ایران کو ’’بہت اچھی طرح‘‘ جانتا ہے اور تنازع کے خاتمے کی کوششوں میں اس نے ’’بہت اہم کردار‘‘ ادا کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’وہ ایران کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، اور وہ ایران کے مسائل سے بھی بہ خوبی واقف ہیں۔ انھوں نے، چند دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر، مدد کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘
امریکی صدر نے مزید کہا ’’ہمارے تعلقات کے حوالے سے، جن میں ایران کے ساتھ جنگ، یا آپ اسے جو بھی نام دیں، ختم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ یہ تو جنگ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک فوجی کارروائی ہے۔ یہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کارروائی ہے۔‘‘
سفارتخانہ پاکستان کے زیرِ اہتمام پاکستانی مینگو فیسٹیول
ٹرمپ نے کہا کہ ’’ترکی اس لڑائی میں شامل ہو سکتا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ بہت طاقت ور فوج رکھنے والا ملک ہے۔‘‘ صدر اردوان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’’میرا نہیں خیال کہ وہ بھی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے اس بات کا کافی یقین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس پر مکمل یقین ہے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ صدر طیب اردوان کی وجہ سے شام کے نئے رہنما سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، احمد الشرح نے بہت شان دار کام کیا، ڈیڑھ سال میں پورے ملک کو متحد کر دیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں موجود ہیں، جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے اُن کا استقبال کیا تھا۔











