راولپنڈی (سعد عباسی) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم پریس کانفرنس میں تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 4 روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات سامنے آئے ہیں، جن کا سکیورٹی فورسز نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع بشمول خاران اور دالبندین میں کیے گئے مؤثر آپریشنز کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 54 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جبکہ ان واقعات میں پاک فوج کے 11 جوان، 27 پولیس اہلکار اور 4 معصوم شہری شہید ہوئے ہیں۔
میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور حالیہ آپریشنز کی مکمل تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ضلع زیارت میں 6 جولائی سے خوارج کے خلاف سخت مقابلہ چل رہا تھا۔ دہشت گردوں نے زیارت میں ایک پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 2 ایس ایچ اوز سمیت 9 پولیس اہلکار وطن پر قربان ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران جب سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیرا تنگ کیا تو انہوں نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے یرغمال بنائے گئے مزید 18 پولیس اہلکاروں کو بھی شہید کر دیا۔ اس افسوسناک واقعے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے مقامی پولیس اہلکاروں کی کل تعداد 27 تک پہنچ گئی ہے۔
سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ فورسز نے خارجیوں کے حملے کا انتہائی دلیری سے جواب دیا۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی میں پہلے 15 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔ علاقے میں چھپے ہوئے دیگر فتنہ الخوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور تعاقب کا سیکیورٹی آپریشن تاحال کامیابی سے جاری ہے۔
ٹرمپ کا ایک بار پھر جنگ میں ایران کو شکست دینے اور امریکی فوج کے طاقتور ترین ہونے کا دعویٰ
ترجمان پاک فوج نے واشگاف الفاظ میں عزم ظاہر کیا کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے پاک سرزمین پر ناپاک عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں بلا امتیاز اور پوری طاقت کے ساتھ جاری رہیں گی اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔











