اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)سیکٹر ایف نائن میں مجوزہ یادگار کی تعمیر کے خلاف شہریوں اور ماحولیات سے وابستہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ گرین ایریاز اور قدرتی ماحول کو متاثر کرنے کے بجائے ایسے منصوبوں کے لیے متبادل مقامات کا انتخاب کیا جائے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر افضل ملک صدر محلہ کمیٹی 1982 ایف سیون اسلام آباد، علی بخاری جنرل سیکرٹری اور خواجہ یٰسین نے کہا کہ درختوں کا تحفظ اور مسافروں کے لیے سایہ دار ماحول فراہم کرنا صدقۂ جاریہ ہے، جبکہ سرسبز علاقوں کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کرنا ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر دوست ممالک کی یادگار تعمیر کرنا مقصود ہے تو اسے کسی یونیورسٹی، تعلیمی ادارے یا مناسب عوامی مقام پر تعمیر کیا جائے، جہاں طلبہ اور شہری اس دوستی کی علامت کو بہتر انداز میں دیکھ اور سمجھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایف نائن پارک اسلام آباد کا اہم گرین زون ہے، جسے برقرار رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارک میں آئس کریم پارلرز، کافی شاپس اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے ٹریفک، شور، دھواں اور کاربن کے اخراج میں اضافہ ہوگا، جو ماحول اور شہریوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔مقررین نے کہا کہ صاف ہوا اور صاف پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں، اس لیے ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ایسے فیصلے کرتے وقت ماہرین ماحولیات، شہریوں اور سول سوسائٹی سے بھی مشاورت کریں۔ایک سوال کے جواب میں مقررین نے کہا کہ اگرچہ ماحولیاتی تحفظ کے نام پر مختلف ٹیکسز اور لیویز وصول کی جاتی ہیں، تاہم ضروری ہے کہ ان فنڈز کے استعمال میں شفافیت لائی جائے اور انہیں واقعی ماحول دوست منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر دیگر ماحول دوست تنظیموں، شہری گروپوں اور سول سوسائٹی کو بھی ساتھ ملا کر آگاہی مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اسلام آباد کے گرین ایریاز کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔











