لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانوی وزیراعظم اور لیبر پارٹی کے رہنما کیئر اسٹارمر کے بطور پارٹی لیڈر استعفے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، جہاں صارفین نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے خود کو موزوں نہیں سمجھتے اور پارٹی کے بہتر مستقبل کے لیے قیادت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ عظمیٰ کے دوران ان کا ہر فیصلہ ملک کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کیا گیا۔
استعفے کے اعلان کے بعد بعض صارفین نے اسٹارمر کی کارکردگی کو سراہا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’آپ نے بہترین کام کیا، ہمیں آپ پر فخر ہے۔‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں وہ بہترین وزیراعظم تھے، لیکن انہیں مطلوبہ سیاسی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔‘‘
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا
کئی افراد نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک عظیم رہنما قرار دیا۔ بعض تبصروں میں کہا گیا کہ ان کے مختصر دورِ حکومت کے باوجود ملک کی صورتحال میں بہتری آئی۔
دوسری جانب متعدد صارفین نے استعفے کا خیر مقدم کیا۔ بعض نے ’’شکر ہے‘‘ اور ’’آج کا بہترین دن‘‘ جیسے تبصرے کیے، جبکہ کچھ صارفین نے فوری عام انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
کچھ مبصرین نے لیبر پارٹی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے دباؤ میں آکر اپنے ہی وزیراعظم کو ہٹا دیا، جس سے سیاسی مخالفین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ایک صارف کے مطابق، ’’یہ لیبر پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ مخالف جماعتیں اسے سیاسی کمزوری کے طور پر پیش کریں گی۔‘‘
کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد لیبر پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کا عمل اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ عوامی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی سیاسی میراث کے بارے میں رائے منقسم ہے۔











