اتوار,  21 جون 2026ء
ڈاکٹر یاسین رحمان کا کشمیریوں کے ساتھ احترام، مکالمے اور انصاف پر زور
ڈاکٹر یاسین رحمان کا کشمیریوں کے ساتھ احترام، مکالمے اور انصاف پر زور

لوٹن(روشن پاکستان نیوز) ڈاکٹر یاسین رحمان نے کشمیری مظاہرین کے ساتھ مبینہ سلوک سے متعلق رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خوراک اور بنیادی ضروریات کو سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور یہ انسانی ہمدردی، وقار اور ذمہ دار طرزِ حکمرانی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

ڈاکٹر یاسین رحمان نے کہا، “خوراک کو کبھی بھی سیاسی دباؤ کے آلے یا لوگوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایسے اقدامات کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں اور یہ ہمدردی اور ذمہ داری کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی نمائندگی کرتی ہیں۔”

انہوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات کے نتائج کو سمجھیں جو عوامی غصے، اختلافات اور تقسیم کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے جو مختلف طبقات کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، ملک کے سماجی اتحاد، معاشی استحکام اور بین الاقوامی ساکھ پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر یاسین رحمان نے کہا، “بہت سے کشمیری آج بھی پاکستان کے ساتھ گہرے جذباتی اور تاریخی تعلقات رکھتے ہیں۔ یہ رشتہ مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی وابستگیوں پر قائم ہے، جسے احترام، انصاف اور بامعنی مکالمے کے ذریعے مضبوط کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات سے کمزور کیا جائے جو مزید ناراضی پیدا کریں۔”

آزاد کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قلت کا خدشہ، حکومت فوری اقدامات کرے: افضل بٹ

انہوں نے مغربی ممالک، خصوصاً برطانیہ اور یورپ میں آباد کشمیری برادری کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک مقیم تقریباً 20 لاکھ کشمیری ایک بااثر اور متحرک کمیونٹی ہیں جو سماجی، سیاسی اور معاشی میدانوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور پاکستان کی معیشت کے لیے ترسیلاتِ زر کے ذریعے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ڈاکٹر یاسین رحمان نے کہا، “حکومتِ پاکستان اور ریاستی اداروں کو ان فیصلوں کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے جو بیرونِ ملک کشمیری برادری کو دور کر سکتے ہیں۔ اس اہم تعلق کو اعتماد، رابطے اور باہمی احترام کے ذریعے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیری برادری کے تحفظات کو نظر انداز کرنے سے پاکستان کے معاشی اور سفارتی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر یاسین رحمان نے زور دیا کہ “تمام فریقین کو مذاکرات اور پرامن طریقۂ کار کے ذریعے زیرِ التوا مسائل کے حل کے لیے دوبارہ کوشش کرنی چاہیے۔ لارڈ نذیر احمد کے جذبات اور خدشات کو بھی کمیونٹی کے ایک اہم حصے کی آواز کے طور پر سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔”

ڈاکٹر یاسین رحمان

مزید خبریں