ٹوکن ٹیکس میں بڑا اضافہ : اب کس گاڑی پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟

اسلام آبا(روشن پاکستان نیوز) وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافے کردیا گیا ، 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس بڑھا کر 20 ہزار روپے کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسلام آباد میں گاڑیوں پر عائد ٹوکن ٹیکس میں اضافے کی منظوری دے دی۔

اجلاس کے دوران اراکینِ کمیٹی نے مڈل کلاس طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے اور سالانہ وصولی کے طریقہ کار پر کڑی تنقید کی، تاہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے صوبوں کی طرز پر ٹیکس بڑھانے کا دفاع کیا۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں سال 2019 کے بعد سے ٹوکن ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا، جبکہ دیگر تمام صوبے پہلے ہی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس بڑھا چکے ہیں۔

کتنے لاکھ پر کتنا ٹیکس؟ تنخواہ دار طبقے کے لئے بڑی خبر آگئی

ب نئے منظور کردہ طریقہ کار کے تحت 1000 سی سی تک کی گاڑیاں پر پہلے ون ٹائم (10 ہزار روپے فکس ٹیکس لاگو تھا، اب سال 2010 سے پہلے کے ماڈل کی 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس بڑھا کر 20 ہزار روپے کیا جا رہا ہے۔

1000 سے 1300 سی سی تک کی گاڑیاں پر پہلے ٹوٹل انوائس کا 0.3 فیصد ٹوکن ٹیکس تھا، جسے اب بدل کر ٹوٹل انوائس کے 0.25 فیصد کے برابر کیا جا رہا ہے۔

اس فارمولے کے تحت 2010 سے پہلے کے ماڈلز کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس 2500 روپے بنے گا، جبکہ 2010 کے بعد کے ماڈلز کی ان گاڑیوں پر یہ ٹیکس 6200 روپے بنے گا (مثال کے طور پر 20 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی پر ٹوکن ٹیکس 6200 روپے ہوگا، پہلے ان گاڑیوں سے صرف 1500 روپے ٹوکن ٹیکس لیا جا رہا تھا۔

ڈی سی اسلام آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں سال گاڑیوں سے 3.9 ارب روپے کا ٹوکن ٹیکس اکٹھا کیا گیا ہے، جس کا 19 فیصد حصہ ڈیجیٹل طریقے سے وصول ہوتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ مجوزہ اضافہ لاگو کیا جائے تو اگلے سال ٹیکس کی وصولی 3.9 ارب سے بڑھ کر 5.2 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

ٹیکسز میں اضافے پر شرمیلا فاروقی نے سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ “یہ سب مڈل کلاس لوگ ہیں، ان سے مزید ٹیکس کیوں لیا جا رہا ہے؟”اسلام آباد میں گاڑیوں پر ٹیکسز میں اضافے کے حق میں بالکل نہیں۔

جاوید حنیف خان کا کہنا تھا کہ گاڑی پہلے ہی چل رہی ہے، پٹرولیم لیوی الگ لی جا رہی ہے اور خرید پر ٹیکس ہر سال الگ سے لیا جاتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ جس طرح ایک گاڑی کے لیے لائف ٹائم ٹیکس کا آپشن ہے، تمام گاڑیوں کے لیے لائف ٹائم ٹیکس کر دینا چاہیے تاکہ روز روز لوگ سڑکوں پر کھڑے ہو کر ذلیل نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے اتنا پیسہ بہت ہے، یہاں گاڑیوں پر مزید ٹیکس لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حنا ربانی کھر نے ٹوکن ٹیکس کی سالانہ وصولی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “ٹوکن ٹیکس ہر سال کیوں لیا جاتا ہے؟ یہ 5 یا 10 سال کے وقفے کے بعد کیوں نہیں اکٹھا کیا جاتا؟”

مزید خبریں