ابھی ابھی ایک خبر پڑھی کہ ارجنٹینا کے ایک ٹیلی ویژن کی میزبان نے خبر دی کہ مایہ ناز فٹبالر میسی کے والد کا انتقال ہو گیا۔۔ یہ بھی کہا کہ ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم خبر ٹی وی چینل پر چلنے کے بعد میسی کے اہل خانہ نے وضاحت کی کہ میسی کے والد بیمار ضرور ہیں مگر ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔
یہ وضاحت سننے کے بعد ٹی وی میزبان پینا نے فوری طور پہ سوشل میڈیا پر معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پروڈکشن ٹیم نے انہیں یہ خبر دی جس کی وہ تصدیق نہ کر سکیں اور یہ غلط خبر دے بیٹھیں۔ تاہم انہوں نے صرف معذرت پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ چینل کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ اعلیٰ ترین صحافتی اصولوں کی پاسداری کی ایک مثال نظر آتی ہے مگر یہاں ہم پاکستان میں ایسی کوئی مثال نہیں ڈھونڈ پاتے۔ یہاں ایک سینئر ڈاکٹر سے تجزیہ کار بننے والے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے ائیر بلیو طیارہ حادثہ کے فوری بعد یہ خبر دے دی کہ اس طیارہ کو ایوان صدر کے قریب سے گزرنے پر اینٹی ائیر کرافٹ گن نے نشانہ بنایا۔ تاہم اس پہ معذرت بھی نہ کی۔ آج تک کسی نہ کسی چینل پر تواتر کے ساتھ تجزئیے دیتے ہیں اور غلط و گمراہ کن خبریں بھی دیتے ہیں مگر شرمندگی کبھی بھی ان کے چہرے پر دکھائی نہیں دی۔ آج بھی اپنے آپ کو صحافت کی بلند ترین منصب پہ فائز سمجھتے ہیں۔
یہی ڈاکٹر صاحب تھے جنہوں نے ڈارک ویب کے حوالہ سے ایسے ایسے انکشافات اپنے چینل پر کیے کہ ملک بھر میں ہلچل مچ گئی۔ کچھ لوگوں نے ان کی خبر کو غلط کہا تو انہوں نے کہا کہ میری آج تک کوئی خبر غلط نہیں ہوئی اور ان سے حسد کرنے والے ان کے خلاف افواہیں پھیلا رہے ہیں، وہ عدالت میں اپنی بات کو سچ ثابت کریں گے۔ جب عدالت نے خبر کا ثبوت مانگا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ تو پرینک ہو گیا ہے، انہوں نے کیمرے کے سامنے ہاتھ ہلایا اور رخصت ہو گئے مگر اپنی جھوٹ بولنے والی ملازمت نہ چھوڑی۔
اسی چینل کے ایک بڑے رپورٹر صابر شاکر نے سابق وزیر رانا سکندر اقبال کے انتقال کی خبر بریک کی، رانا اقبال سکندر کے اہل خانہ نے خبر کو غلط قرار دیا تو ادارہ نے خبر روک دی اور وضاحت چلا دی تاہم رپورٹر نے استعفی دیا نہ ہی معذرت کی۔
اسی طرح ڈھٹائی کی ایک اعلیٰ مثال فواد چوہدری اور معید پیرزادہ نے بھی قائم کی جب انہوں نے پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے دھرنا کے شاہراہ دستور منتقل ہوتے وقت ایک خبر ایکسپریس نیوز پر دی کہ دھرنا کے شرکا پر شاہراہ دستور کے راستے میں پولیس نے فائرنگ کی جس نے کم از کم تین نوجوان جاں بحق ہو گئے ہیں مگر ان کے رپورٹر اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔ اس پر ایکسپریس نیوز کے رپورٹرز کی ٹیم نے احتجاج کیا اور ایکسپریس نیوز کی انتظامیہ نے دونوں اینکرز کو آف ائیر کر دیا اور ایک انکوائری کمیٹی بنائی۔ یہ دونوں اس کمیٹی میں پیش نہیں ہوئے مگر فواد چوہدری نے ٹویٹ کر دی کہ اشتہارات کے ذریعے بلیک میلنگ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انہیں ایکسپریس نیوز سے نکلوا دیا۔ جس پر ایکسپریس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ خبر لگائی کہ فواد چوہدری کو کیوں نکالا؟. مگر مجال ہے کہ فواد چوہدری کو اس جھوٹی خبر پر کبھی کوئی شرمندگی ہوئی ہو کیونکہ یہاں وہی لوگ معتبر ہیں جن کی خبریں باؤنس ہوتی ہوں۔
ابھی ایک خبر ہم نے سنی جس میں پنجاب حکومت پر سنگین الزامات ارشاد بھٹی کی جانب سے عائد کیے گئے، تاہم جب پنجاب حکومت نے اس حوالہ عدالت میں جانے کا اعلان کیا تو ارشاد بھٹی نے فوری طور پر یہ کہہ دیا کہ انہوں نے پبلک نیوز ٹی وی کی خبر دی تھی۔ یہ ان کی خبر نہیں تھی۔ اب صرف یہ بتا کر یہ کہ کسی چینل کی خبر تھی جو میں نے بیان کی تھی آپ اس کیس سے بچ نہیں سکتے کیونکہ صحافت کا پہلا اصول ہے کہ جب کوئی خبر ملتی ہے تو اس کی تصدیق کی جانی چاہئے۔ کسی رپورٹر یا کسی چینل کی خبر آپ کو اپنے پروگرام یا اپنے وی لاگ میں اس وقت تک نہیں شامل کرنی چاہئے جب تک آپ اس کی تصدیق نہ کر لیں مگر یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا، ایسی کتنی ہی مثالیں ہیں جہاں اینکرز اور رپورٹر نے نہ صرف غلط خبر دی بلکہ یہ بھی کہتے رہے کہ ہمیں تو یہ فائلیں اسٹیبلشمنٹ نے دکھائی تھیں۔
عمران ریاض جیسا ایک صحافی دوست جب اینکر بنا تو اس نے تمام صحافتی اصول فراموش کر دئیے، وہ کہتا ہے اسے فائلیں اسٹیبلشمنٹ نے دکھائی تھیں تو کوئی پوچھے کہ تم وہاں کیا لینے جاتے تھے؟ اور اگر تم نے اسٹیبلشمنٹ کی فائلیں دیکھ کر یہ بات مان لی تھی کہ نواز شریف اور زرداری کرپٹ ہیں تو ان کی فائلیں دیکھ کر یہ کیوں ماننے پر تیار نہیں کہ عمران خان چور ہے؟۔ اب تک ان کی مانتے مانتے آج اگر ارب پتی بنے ہو تو یہ بھی ماننا ہو گا۔
ایسی ہی ایک اور مثال اخلاقیات کا درس دینے والے ایک اور صحافی مطیع اللہ جان کی بھی ہے جس نے ایک حج سکینڈل پہ پروگرام کیا، اس نے کئی صحافیوں اور اینکرز پر یہ اعتراض اٹھایا کہ انہوں نے سرکاری خرچ پہ حج کیا، اس پروگرام میں اس نے دو ایسے صحافیوں کی تصاویر بھی لگائیں اور لکھا کہ انہوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں حالانکہ ان دو صحافیوں نے وہ حج نہیں کیا تھا جسے رحمان ملک کی وجہ سے رحمانی حج کہا جا رہا تھا۔ ان میں سے ایک صحافی طارق محمود ملک اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر دوسرا موجود ہے اور پوچھتا ہے کہ دوسروں سے ان کی غلطیوں کی معافی کا تقاضا کرنے والے صحافیوں کو اپنی غلطیوں پہ معافی کی ضرورت ہے یا نہیں؟..











