اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز ) پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکینِ قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سندھ، بلوچستان اور زیریں علاقوں کے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور احتجاج کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری، رکن قومی اسمبلی سحر کامران، آغا رفیع اللہ، طارق حسین جاموٹ، مخدوم جمیل الزمان، سید ابرار علی شاہ سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔
احتجاج کے دوران اراکین نے “Sindh Needs Water, Balochistan Needs Water, Lower Riparians Need Water” اور “Sindh is Facing 48% Water Shortage” کے پلے کارڈز اٹھا کر سندھ، بلوچستان اور دیگر زیریں علاقوں کو درپیش پانی کی شدید قلت کو اجاگر کیا۔
رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کی جانب وزیر اعظم کی توجہ مبذول کرائی اور ایوان میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ وزیر اعظم نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس اہم قومی مسئلے پر فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
پیپلز پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ حکومت سندھ کے سرکاری انڈس ریور بلیٹن کے مطابق 11 جون 2026 کو کوٹری بیراج پر پانی کی فراہمی میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ دریائی نظام کے زیریں حصے میں واقع ہے، اس لیے پانی پر اس کا قانونی اور تاریخی حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔
رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ پانی کی قلت کے باعث زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں، ڈیلٹا کے علاقے تباہی کا شکار ہیں، مچھلی گیری کا شعبہ متاثر ہو رہا ہے جبکہ لاکھوں افراد کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے اور آئین پاکستان کے مطابق تمام صوبوں کو ان کا جائز اور منصفانہ حصہ فراہم کیا جائے اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) معاہدے کی کسی بھی مبینہ خلاف ورزی کو فوری طور پر روکے۔
پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ، بلوچستان اور دیگر زیریں علاقوں کے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری، سیاسی اور پارلیمانی فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کے معاملے میں کسی بھی قسم کی ناانصافی قبول نہیں کی جائے گی اور وفاقی حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صوبوں کے درمیان اعتماد، قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچائیں۔











