تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ۔
سمجھوتہ غموں سے کر لو/ زندگی میں غم ہی ملتے ہیں
تم لوگ اکثر پوچھتے ہو کہ زندگی میں اتنے دکھ کیوں ہیں ؟
اور اگر تم پوچھتے نہیں تو ایسا سوچتے تو ضرور ہو،
میں جانتا ہوں کیونکہ میں بھی یہی سوچتا ہوں کہ دنیا میں اتنے غم کیوں ہیں؟
اور اب میں یہ جان پایا ہوں کہ دکھ اس لیے ہیں کہ میں اپنی زندگی سے لڑ رہا ہوں،
ان حالات کو قبول نہیں کر رہا،
کیونکہ میں زندگی کو ایسا بنانا چاہتا ہوں جیسا میں چاہتا ہوں، اور وہ زندگی ویسے بنتی نہیں ہے،
وہ حالات ویسے ہوتے ہیں،
وہ ماحول ویسا بنتا نہیں ہے
اور پھر جب بھی میں مشکلوں سے ٹکراتا ہوں تو دکھ جنم لیتے ہیں
اور اب میں پھر یہ بھی جان پایا ہوں کہ جو دکھ ہیں
یہ میرے لیے کوئی سزا نہیں ہیں،
کوئی تکلیف نہیں ہیں،
بلکہ یہ میرے لیے پیغام ہیں کہ میں جس راستے پر جا رہا ہوں وہ غلط ہے
اور میں نے جس دن ان حالات کو، ان مشکلوں کو قبول کر لیا تو یہ دکھ مٹ جائیں گے ،
ختم ہو جائیں گے،
کیونکہ دکھ کی وجہ سمجھتے ہی دکھ ختم ہو جاتا ہے۔
تو اب میں زندگی کو ،حالات کو اپنے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہیں کر رہا ۔
اپنے آپ کو زندگی کے مطابق بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
تم بھی پرسکون ہو جاؤ،
اس بات کو سمجھو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ،
شانت ہو جاؤ ۔
حالات کو اور معاملات کو بدلنے کی کوشش مت کرو ورنہ زندگی بھر دکھی رہو گے۔
جتنی زندگی گزار چکے سو گزار چکے ، اب اپنی زندگی کو آسان بناؤ اور آج ہی نئی زندگی شروع کرو ۔
زندگی سے لڑنا نہیں، اسے بدلنا نہیں، بس قبول کرنا ہے اور آگے بڑھتے جانا ہے
موقوف ہے کیوں حشر پہ انصاف ہمارا
قصہ یہیں کا ہے تو پھر طے بھی یہیں ہو
زندگی سے انصاف کی امید رکھنا بند کر دو ،
جس دن تم نے انصاف کی امید رکھی اسی دن سے تمہاری ہار شروع ہوئی ۔
تم لوگ سوچتے ہو کہ اچھے لوگوں کے ساتھ ہی برا کیوں ہوتا ہے اور جو برے لوگ ہیں وہی کیوں جیتتے ہیں؟
اس کا جواب بہت سادہ، مگر سمجھنے میں ذرا مشکل ہے کیونکہ جو بات میں بیان کروں گا ہو سکتا ہے تمہارے دین، دھرم اور پرانے عقائد اسے ماننے سے، قبول کرنے سے روکیں لیکن کڑوی سچائی یہی ہے کہ دنیا انصاف دینے کے لیے بنی ہی نہیں ہے بلکہ دنیا سچ دکھانے کے لیے بنی ہے۔
قدرت میں کہیں بھی انصاف کا نظام نہیں ہے۔
تم نیچر ہی کو دیکھ لو ،ہر طاقتور چیز کمزور کو کھا رہی ہے،
بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے،
تیز رفتار اور طاقتور پرندے کمزور پنچھیوں کو اپنا ترنوالہ بنا لیتے ہیں،
کیا شیر نے کبھی سوچا ہے کہ یہ جو میں ایک معصوم اور کمزور جانور کو چیر پھاڑ کر کھا جاؤں گا یہ صحیح ہے یا غلط؟
کیا کبھی کسی طوفان نے کسی کا گھر اجاڑنے سے پہلے غور کیا کہ یہ گھر کسی نے کتنے سالوں کی محنت سے بنایا ہوگا اور اپنے خاندان کے سر پر یہ گھر ایک سہارا ہے؟
کیا کبھی سیلاب نے یہ دیکھ کر کہ راستے میں مال مویشی ہیں یا غریبوں کے دیہات اور گھر ہیں جو اس سیلاب میں بہ جائیں گے ، اپنا رخ موڑا؟
یہ انصاف صرف انسان کا بنایا ہوا ایک تصور ہے ۔
میرے خیال میں خدا نے کائنات میں کہیں انصاف نہیں کیا۔
ایک معصوم بچی کا چند وحشی درندے بلدکار کر دیتے ہیں، قدرت اس کو دیکھتے ہوئے بھی نظر انداز کر دیتی ہے۔
ایک خاندان کا مالی اور جذباتی سہارا ایک واحد کفیل بیٹا ،جو اپنے خاندان کے سامنے دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے لیکن قدرت خاموش رہتی ہے ۔
اس پوری کائنات میں کہیں خدا نے انصاف دیا ہو تو مجھے بتاؤ میں اپنی اصلاح کر لوں گا۔
طاقتور ملک، غریب ممالک پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔
عوام کو میزائلوں اور بموں سے ملک عدم بھیج دیا جاتا ہے۔
میں یہاں خدا کے نظام کو یا اس کے قادر مطلق ہونے کو چیلنج نہیں کر سکتا نہ ہی کر رہا ہوں۔
میرا کہنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہمیں کائناتی قوانین اور طبعی قوانین کو سمجھنا ہوگا،
انہیں جاننا ہوگا،
تحقیق کرنی ہوگی
اور پھر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کون سے کام ہم نے خدا کے سپرد کرنے ہیں اور کن حالات و واقعات کی ذمہ داری خود اٹھانی ہے۔
اب اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ زندگی ظالم ہے اور انصاف نہیں دیتی، اصل تکلیف یہ ہے کہ ہمیں بچپن سے ہی یہ بتا دیا گیا کہ زندگی تمہارے ساتھ انصاف کرے گی اور یہی جھوٹ ہمیں اندر سے توڑتا رہتا ہے ،ہمیں اندر سے کھائے جاتا ہے۔
ہم کوئی بھی ظلم و ستم ہوتا دیکھتے ہیں تو ہم انتظار کرتے ہیں کہ قدرت اس سے بدلہ دے گی۔
ہم انتظار کرتے ہیں، سہتے ہیں اور چپ رہتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
خدا نے اس کی رسی دراز کر رکھی ہے اور جب وہ رسی کھینچے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ظالم کو اس کے کیے کہ سزا ملے گی لیکن 60 سال سے میں اس رسی کے انتظار میں ہوں کہ وہ کھینچے گی اور کب میں ظالم کو اپنے انجام تک پہنچتے ہوئے دیکھوں گا۔
اب آپ پوچھ سکتے ہیں تو کیا یہ نظام انصاف کبھی ٹھیک ہوگا یا کبھی نہیں؟
تو ایک سیدھا سادہ سمپل جواب ہے کہ نہیں
کیونکہ زندگی میں اچھے لوگ ہارتے ہیں اور برے سزائیں نہیں پاتے
اور پھر ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے جو اکثر ذہن میں آتی ہے کہ کیا جنہیں ہم غلط سمجھتے ہیں وہ واقعی غلط ہیں یا نہیں ؟
ہو سکتا ہے وہ جو کر رہے ہوں وہی صحیح ہو
اور ہمارا نقطہ نظر غلط ہو۔
چلو جو بھی ہے آج تم لوگ یہ مان لو کہ زندگی صحیح نہیں ہے اور ہمیشہ انصاف نہیں دیتی لہذا خود کو بدلو،
اپنی سوچ بدلو،
اور اور آخر میں پھر یہی کہوں گا کہ زندگی سے انصاف کی امید رکھنا بند کر دو ،
جس دن تم نے امید رکھی تم اسی دن سے ہار گئے











