جمعرات,  04 جون 2026ء
راولپنڈی میں مبینہ پولیس گردی، خاتون کا انصاف نہ ملنے پر خودکشی کی دھمکی

راولپنڈی(سہیل ملک) ڈی ایچ اے ٹو کی رہائشی خاتون حفصہ رانی نے الزام عائد کیا ہے کہ بحریہ پولیس چوکی کے اہلکاروں نے ان کے شوہر کو مبینہ طور پر اغواء کر کے لاکھوں روپے نقدی اور گاڑی چھین لی، بعد ازاں منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔

خاتون کے مطابق 20 مئی 2026 کو چوکی انچارج عبدالمقدم، امتیاز ناصر اور دیگر اہلکاروں نے ان کے شوہر اورنگزیب کو ڈی ایچ اے ٹو سے حراست میں لیا، ان سے دو لاکھ روپے نقدی چھین لی گئی جبکہ بعد ازاں بحریہ فیز 7 لے جا کر ان کے اکاؤنٹ سے مزید ڈھائی لاکھ روپے نکلوا لیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی کیا اسپورٹیج گاڑی نمبر ASC-765 بھی پولیس اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے لی۔

حفصہ رانی کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو تین روز تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد تھانہ صدر بیرونی میں منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ شوہر کی رہائی کے لیے ان سے 15 لاکھ روپے طلب کیے گئے۔

“انصاف نہ ملا تو کچہری چوک میں خود کو آگ لگا دوں گی”
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ خاتون نے کہا کہ وہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن، آر پی او اور دیگر متعلقہ افسران کے دفاتر کے چکر لگا چکی ہیں لیکن کہیں سے انصاف نہیں ملا۔

حفصہ رانی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کرتے ہوئے کہا:
“میرے دو چھوٹے بچے ہیں، میں عدالتوں اور دفاتر کے دھکے کھا کھا کر تھک چکی ہوں۔ اگر مجھے دو تین دن میں انصاف نہ ملا تو میں کچہری چوک میں خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لوں گی۔”

اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر داخلہ، آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے، ان کے شوہر کو انصاف فراہم کیا جائے اور چھینی گئی رقم و گاڑی واپس دلائی جائے۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزامات خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

مزید خبریں