جمعرات,  04 جون 2026ء
بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں عالمی سرمایہ کاری 10 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

نئی دہلی (روشن پاکستان نیوز) مودی کی معاشی پالیسیوں کو بڑا دھچکا لگا، بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں عالمی سرمایہ کاری دس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق مودی حکومت کے مضبوط معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کے بڑے دعوؤں کی حقیقت سامنے آ گئی، عالمی جریدے بلومبرگ اور بھارتی مالیاتی ڈیٹا بینک کی رپورٹس میں کہا گیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارتی اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد تیزی سے کم ہو رہا ہے، جس کے باعث عالمی سرمایہ کاری گزشتہ دس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

بھارتی مالیاتی ڈیٹا بینک نیشنل سیکیورٹیز ڈپازٹری لمیٹڈ کے اعداد و شمار کے تحت بھارت میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری 7.3 ٹریلین روپے کے ساتھ سال 2016 کے بعد اب تک کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے، کئی بڑی بھارتی کمپنیوں میں عالمی فنڈز کا حصہ گزشتہ دس سالوں کے دوران 20 فیصد سے کم ہو کر محض 15 فیصد رہ گیا ہے۔

کویت پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے، بھارتی شہری ہلاک، متعدد زخمی

ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مارکیٹ میں بھارتی اسٹاک مارکیٹ اپنی پہلی سی اہمیت کھو چکی ہے اور پچھلے تین سال میں پہلی بار تائیوان اور جنوبی کوریا کی معیشتیں بھارت کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئی ہیں۔

عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی کمزور اور غیر مستحکم معاشی پالیسیوں نے مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچایا، اس کے ساتھ ساتھ، امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اور جنگی صورتحال سے پیدا ہونے والی مشکلات نے بھی بھارت کے معاشی مستقبل اور تجارتی ماحول پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان عالمی اور داخلی عوامل کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں، جو کہ مودی حکومت کے نام نہاد معاشی عروج کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

مزید خبریں