لندن(شہزاد انورملک) برطانیہ کے شہر ساؤتھمپٹن میں 18 سالہ طالب علم ہینری نوواک کے قتل اور پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر نامناسب رویے کے خلاف شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد شہر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہینری نوواک کو گزشتہ سال چاقو کے وار سے زخمی کیا گیا تھا، تاہم واقعے کے بعد سامنے آنے والی باڈی کیم فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ پولیس اہلکاروں کو بار بار بتا رہا تھا کہ اسے چاقو مارا گیا ہے اور وہ سانس لینے میں دشواری محسوس کر رہا ہے۔ اس کے باوجود اسے ہتھکڑی لگائی گئی، جس پر عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
برطانیہ میں ریکارڈ توڑ گرمی میں پانی کیلیے قطاریں لگ گئیں
منگل کی شام ساؤتھمپٹن پولیس اسٹیشن کے باہر سینکڑوں افراد جمع ہوئے، جہاں مظاہرین نے “I Can’t Breathe” اور “Justice for Henry” جیسے نعرے لگائے۔ احتجاج میں دائیں بازو کے بعض سیاسی رہنما اور کارکن بھی شریک ہوئے جنہوں نے پولیس کی کارروائی پر سخت تنقید کی۔
بعد ازاں بعض علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہو گئی اور پولیس پر پتھراؤ، بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جبکہ حکام نے تشدد کی مذمت کی ہے۔
عوامی ردِعمل
سوشل میڈیا اور عوامی فورمز پر متعدد افراد نے پولیس کے رویے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ زخمی نوجوان کی فوری طبی امداد کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی، جبکہ دیگر نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کئی تبصروں میں پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور فیصلہ سازی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔
پولیس اور حکام کا مؤقف
ہیمپشائر پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر اہلکاروں کو ابتدائی طور پر گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں، تاہم بعد میں انہوں نے طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ واقعے کی تحقیقات آزاد ادارے انڈیپنڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ (IOPC) کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ برطانوی وزیراعظم اور وزیر داخلہ بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور پولیس کے طرزِ عمل سے متعلق سوالات کے جواب طلب کیے جا رہے ہیں۔











