کسانوں کے گھروں پر چھاپے فوری بند کئے جائیں، زراعت کو ٹیکس فری رکھا جائے، خالد حسین باٹھ

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے حکومت کی زرعی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کے گھروں پر چھاپے فوری طور پر بند کیے جائیں اور اپنی انتظامی ناکامیوں کا بوجھ کسانوں پر نہ ڈالا جائے، زراعت کو مکمل طور پر ٹیکس فری رکھا جائے اور کھاد، زرعی ادویات، بیج، بجلی اور ڈیزل پر مزید ٹیکس عائد نہ کیے جائیں،کھادوں پر سبسڈی دی جائے اور کھاد کمپنیوں سے مشاورت کے ذریعے قیمتوں میں کمی لائی جائے، کچھی کینال منصوبے کی تکمیل میں تیزی لائی جائے، حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار نہ کی تو پاکستان کو شدید غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،چشمہ رائٹ بینک کینال اور گومل زام کمانڈ ایریا کی فوری مرمت کی جائے، پانی چوری روکی جائے اور نہری نظام کی استعداد بحال کی جائے،کسانوں کی عزت نفس اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا تو پاکستان کسان اتحاد بھرپور اور پرامن احتجاج کرے گا،پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نےان خیالات کا اظہار سندھ ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کسان نمائندوں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دور کسانوں کے لیے مشکل ترین ہے،کسان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، اس کے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم اور صحت کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ زرعی پیداوار کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی 22 ملین ٹن پیداوار کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم حکومت کی نامزد کردہ کمپنیاں 30 لاکھ ٹن گندم کی خریداری بھی مکمل نہیں کر سکیں۔ اس ناکامی کا ذمہ دار کسان نہیں بلکہ حکومتی نااہلی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کسانوں کے گھروں پر پیرا فورس کے ذریعے چھاپے مارے جا رہے ہیں جو ناقابل قبول ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے گھروں پر چھاپے فوری طور پر بند کیے جائیں اور اپنی انتظامی ناکامیوں کا بوجھ کسانوں پر نہ ڈالا جائے، اگر کسانوں کی عزت نفس اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا تو پاکستان کسان اتحاد بھرپور اور پرامن احتجاج کرے گا۔خالد حسین باٹھ نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ساڑھے سات لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بھی اضافی چینی کا جواز پیش کرکے برآمدات کی اجازت حاصل کی گئی جس کے بعد ملک میں چینی کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، چینی کی قیمت 135 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 200 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی جبکہ شوگر مافیا نے اربوں روپے منافع کمایا۔انہوں نے الزام لگایا کہ شوگر ملز مالکان آج بھی کسانوں کے اربوں روپے کے واجبات ادا نہیں کر رہے جبکہ برآمدات کے نام پر مزید مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک میں گنے کی کاشت میں 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے لیکن موجودہ حالات میں آئندہ سال گنے کے کاشتکار بھی مشکلات کا شکار ہوں گے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے خالد حسین باٹھ نے کہا کہ پاکستان میں زرعی نظام شدید خطرات سے دوچار ہے۔ بے وقت بارشیں، شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب فصلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ کپاس کی فصل متعدد بار کاشت کے باوجود متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کا کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار نہ کی تو پاکستان کو شدید غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان سالانہ تقریباً 10 ارب ڈالر کی غذائی اشیاء درآمد کر رہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے مطالبات پیش کرتے ہوئے خالد حسین باٹھ نے کہا کہ زراعت کو مکمل طور پر ٹیکس فری رکھا جائے اور کھاد، زرعی ادویات، بیج، بجلی اور ڈیزل پر مزید ٹیکس عائد نہ کیے جائیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کھادوں پر سبسڈی دی جائے اور کھاد کمپنیوں سے مشاورت کے ذریعے قیمتوں میں کمی لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈی اے پی کھاد کی قیمت 17 ہزار روپے جبکہ یوریا کی قیمت 4600 ر…

مزید خبریں