زیادہ سانس پھولنا کس لاعلاج بیماری کی علامت ہے؟

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آج کل سگریٹ نوشی ایک عام عادت بنتی جا رہی ہے، گلی محلوں، بازاروں اور دفاتر میں جگہ جگہ لوگ سگریٹ پیتے دکھائی دیتے ہیں جو سانس لینے میں دشواری یا سانس پھولنے کا سبب بنتی ہے۔

بہت کم افراد اس کے خطرناک نتائج سے واقف ہیں، ان ہی خطرناک بیماریوں میں ایک “ایمفیسیما” بھی ہے جو پھیپھڑوں کو آہستہ آہستہ ناکارہ بنا دیتی ہے۔

ایمفیسیما پھیپھڑوں کی ایک دائمی بیماری ہے جو سانس لینے میں شدید دشواری پیدا کرتی ہے، اس بیماری میں پھیپھڑوں کے اندر موجود چھوٹے ہوا کے تھیلے، جنہیں “الیوولی” کہا جاتا ہے، بتدریج خراب اور کمزور ہونے لگتے ہیں۔

صحت مند پھیپھڑوں میں یہ تھیلے سانس لیتے وقت پھیلتے اور آکسیجن جذب کرتے ہیں، جبکہ سانس خارج کرتے وقت سکڑ کر ہوا باہر نکالتے ہیں۔ لیکن ایمفیسیما میں ان کی لچک متاثر ہو جاتی ہے، جس کے باعث مریض کے لیے سانس خارج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس صورتحال کے نتیجے میں پھیپھڑوں میں تازہ اور آکسیجن سے بھرپور ہوا کے داخل ہونے کی جگہ کم پڑ جاتی ہے، اور مریض کو مسلسل سانس پھولنے کی شکایت رہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایمفیسیما، دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری یعنی سی او پی ڈی کی ایک سنگین اور لاعلاج قسم ہے، اگرچہ علاج کے ذریعے اس کی علامات کو کم اور بیماری کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے لیکن پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔

ایمفیسیما کی علامات

اس بیماری کی علامات عموماً اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب پھیپھڑوں کو کافی نقصان پہنچ چکا ہو۔ ابتدائی طور پر مریض کو جسمانی سرگرمی کے دوران سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔

چائے ہڈیوں کی صحت کیلئے مفید ہوتی ہے یا نہیں؟

دیگر علامات میں سانس چھوڑتے وقت گھرگھراہٹ یا سیٹی جیسی آواز آنا، مسلسل کھانسی، سینے میں بھاری پن یا جکڑن، غیر معمولی تھکن، وزن میں کمی اور ٹخنوں میں سوجن شامل ہیں۔

بیماری کے بڑھنے کے ساتھ مریض روزمرہ کی سرگرمیوں سے بھی گھبرانے لگتا ہے کیونکہ معمولی حرکت بھی سانس پھولنے کا باعث بنتی ہے۔ بعض اوقات حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ مریض کو آرام کی حالت میں بھی سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایمفیسیما اور دائمی برونکائٹس اکثر ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ دائمی برونکائٹس میں سانس کی نالیاں سوج جاتی ہیں اور اضافی بلغم پیدا ہونے لگتا ہے، جس سے ہوا کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے ان دونوں بیماریوں کو مجموعی طور پر سی او پی ڈی کہا جاتا ہے۔

بیماری کی بڑی وجوہات

ایمفیسیما کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ اس کے علاوہ کیمیائی دھوئیں، صنعتی آلودگی، گردوغبار اور زہریلے بخارات میں طویل عرصے تک رہنا بھی اس بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ بعض نایاب صورتوں میں یہ بیماری جینیاتی خرابی کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔ ’الفا ون اینٹی ٹرپسن‘ نامی پروٹین کی کمی پھیپھڑوں کو نقصان سے بچانے کی صلاحیت کم کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں کے ٹشوز متاثر ہونے لگتے ہیں۔

اگر کئی مہینوں سے سانس لینے میں دشواری محسوس ہو رہی ہو، یا معمول کی سرگرمیاں انجام دینا مشکل ہو جائے، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اسے بڑھاپے یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ بیماری پھیپھڑوں کی ناکامی اور جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز، صاف ماحول، احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص ہی اس خطرناک بیماری سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

مزید خبریں