اتوار,  17 مئی 2026ء
ایران جنگ سے قبل عراق میں ایک اور خفیہ اسرائیلی فوجی اڈے کے قیام کا انکشاف

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اسرائیل کی جانب سے  گزشتہ برس ایران جنگ سے  قبل بھی عراق میں ایک خفیہ فوجی اڈا قائم کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے ایک اڈا عراق کے مغربی صحرا میں فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے لیے استعمال کیا جبکہ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک دوسرا اسرائیلی اڈا بھی موجود تھا جو جون 2025 میں ایران پر اسرائیلی حملوں کے دوران استعمال ہوا۔

ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق اس دوسرے اڈے کی تعمیر 2024 کے آخر میں شروع کی گئی تھی تاہم اب یہ فعال نہیں رہا۔ 2026 کی جنگ میں استعمال ہونے والے اڈے کی موجودہ صورتحال واضح نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کو کم از کم ایک اڈے کے بارے میں علم تھا۔

ان اڈوں کا مقصد ایران پر حملوں کے لیے طیاروں کی پرواز کے وقت کو کم کرنا اور اسرائیلی فضائیہ کے لیے لاجسٹک مرکز فراہم کرنا تھا۔ یہاں خصوصی دستے اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی موجود تھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کارروائی کی جا سکے۔

مقامی بدو افراد نے ایک اڈے کے قریب مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کی تھی تاہم عراقی فوج نے دور سے نگرانی کو ترجیح دی اور امریکا سے معلومات طلب کیں لیکن واشنگٹن نے اس حوالے سے  تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکا اور اسرائیل کی آئندہ ہفتے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری، بڑا دعویٰ سامنے آگیا

رپورٹ کے مطابق 3 مارچ کو ایک چرواہا عواد الشمری جب قریبی قصبے جا رہا تھا تو وہ اتفاقاً اس اڈے تک پہنچ گیا جس کے بعد اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے اسے نشانہ بنایا۔ اس نے اس سے قبل اڈے کی اطلاع عراقی حکام کو دے دی تھی۔

بعد ازاں عواد الشمری کی تباہ شدہ گاڑی مقامی بدو افراد کو ملی جس میں عواد الشمری کی لاش بھی موجود تھی۔

عراقی فوج نے بعد ازاں ایک ریکی مشن بھیجا تاہم ممکنہ طور پر اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہونے کے بعد مشن واپس بلا لیا گیا۔

مزید خبریں