اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سپریم کورٹ نے 20 سال پرانے قتل کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ایک بےگناہ کو سزا دینے کے بجائے دس گنہگاروں کو بری کردینا زیادہ بہتر ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے 20 سال پرانے قتل کیس کا اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے دو افراد کے قتل میں نامزد ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں فوجداری نظامِ انصاف کے سنہری اصول کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملنا چاہیے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اس کیس کا 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گنہگاروں کو بری کر دینا زیادہ بہتر ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض ملزم کے مفرور ہونے کو بنیاد بنا کر اسے قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک کہ ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں، استغاثہ بغیر کسی شک و شبہ کے کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا اور پیش کیے گئے شواہد نقائص سے بھرپور تھے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ 29 اپریل 2006 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں درج ہوا تھا، جس میں ملزم محمد اقبال پر دو افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا، جائے وقوعہ اور تھانے کے درمیان صرف 2 سے 3 کلومیٹر کا فاصلہ تھا، اس کے باوجود ایف آئی آر اسی دن کیوں درج نہیں ہوئی، اس کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ خود عینی شاہد نہیں تھا اور موجود گواہان کے بیانات میں شدید تضاد پایا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے 5 خالی خول فرانزک لیبارٹری نہیں بھجوائے گئے، جو تفتیش میں بڑی کوتاہی تھی۔
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے دیگر عدالتوں پر لازم ہوں گے،سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ
سپریم کورٹ نے کہا کہ ملزم سے اس کے 342 کے بیان میں مبینہ مفروری کے متعلق سوال ہی نہیں پوچھا گیا، جو قانونی طور پر ضروری تھا۔
عدالتِ عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اگر درخواست گزار محمد اقبال کسی اور مقدمے میں نامزد نہیں ہے، تو اسے فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے۔











