پولیس اہلکاروں کے مبینہ ناروا سلوک پر خاتون ماہرِ تعلیم کی وزیراعلیٰ اور آئی جی سے انکوائری کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) فورسز سکول سسٹم کی ہیڈ بشریٰ عرفان نےوزیر اعلیٰ مریم نواز ، آئی جی پنجاب اور آئی جی خیبر پختوانخوا سے اپیل کی ہےکہ ایک جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر انکو حبس بے جا میں رکھنے والے پنجاب اور کے پی پولیس اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں گلزار قائد کے رہائشی محمدآفتاب خان نیازی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بشریٰ عرفان کا کہنا تھا کہ 28 اپریل کی صبح وہ گلزار قائد میں واقع اپنے سکول میں موجود تھیں کہ چار اشخاص جن میں ایک خیبر پختوانخوا کی ملیشیا کی وردی میں جبکہ تین سول کپڑوں میں ملبوس تھے دو پرائیویٹ گاڑیوں میں آئے اور انہیں کہا کہ آپ کے فون پر خلاف دس لاکھ روپے کا تقاضا کرنے کی ایف آئی آر درج ہے جس پر ہم آپکوگرفتار کرنے آئے ہیں، میرے ایف آئی آر دکھانے کا تقاضا کرنے پر انہوں نے گالم گلوچ کرنا شروع کر دی اور مجھے گھسیٹے ہوئے لے جا کر آلٹو گاڑی میں بیٹھا دیا اور دو آدمی میرے دائیں اور بائیں بیٹھ گئے میں نے انکی منتیں کیں کہ آپکے گھر میں بھی ماں بہنیں ہونگی میرے ساتھ اس طرح کا توہین آمیز سلوک نہ کریں مگر انہوں نے میرے کوئی فریاد نہ سنی اور گلزار قائد پولیس چوکی پر لے آئے اور مجھے دو گھنٹے تک باہر بیٹھائے رکھا، جس کے بعد یہ مجھے چوکی میں لے گئے اورکہتے رہے کہ آپکو ڈی آئی خان لیکر جائیں گے، یہ اہلکار مجھے شام چھ بجے تک ہراساں اور گالم گلوچ کرتے رہے اور پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے رہے جس پر ہم نے انہیں پچاس ہزار روپے آن لائن بھیجے جس کے ہمارے پاس مکمل ثبوت موجود ہیں،بشریٰ عرفان نے کہا کہ وہ ایک ماہر تعلیم ہیں اور ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں مگر کے پی اور پنجاب پولیس کا رویہ انکے خلاف انتہائی توہین آمیز اور جارحانہ تھا، بشریٰ عرفان نے وزیر اعلیٰ مریم نواز ، آئی جی پنجاب اور آئی جی خیبر پختوانخوا سے اپیل کی ہےکہ ایک جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر انکو حبس بے جا میں رکھنے والے پنجاب اور کے پی پولیس اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی جائے، انہیں اور انکی فیملی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں