قلعہ گجر سنگھ تھانے میں مبینہ غفلت، محرر زاہد کی جانب سے چھٹی نہ ملنے پر کانسٹیبل کی بیٹی زندگی کی بازی ہار گئی

لاہور(کرائم رپورٹر) تھانہ قلعہ گجر سنگھ سے متعلق نہایت افسوسناک اور سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک کانسٹیبل کی بیٹی مبینہ طور پر بروقت چھٹی نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی، جبکہ تھانے کے افسران کے رویے اور دیگر معاملات پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کانسٹیبل عثمان کی کمسن بچی کافی عرصے سے شدید علیل تھی اور اسے فوری طبی توجہ کی ضرورت تھی۔ کانسٹیبل عثمان نے متعدد بار چھٹی کی درخواست دی، تاہم مبینہ طور پر تھانے کے محرر زاہد نے چھٹی دینے سے انکار کیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت رخصت مل جاتی تو بچی کو بہتر علاج فراہم کیا جا سکتا تھا، مگر مبینہ غفلت اور تاخیر کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکی۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تھانے میں ماتحت اہلکاروں کے ساتھ رویہ انتہائی سخت اور ہتک آمیز ہے، جس کی وجہ سے اہلکار شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایس ایچ او قادر خان پر بھی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر مختلف ہوٹلوں سے منتھلی وصول کرتے ہیں، جن میں آواری ہوٹل، ہولیڈے اِن اور پی سی ہوٹل جیسے بڑے نام شامل بتائے جاتے ہیں۔

غازی آباد پولیس کی کارروائی: جعلی سی سی ڈی اہلکار گرفتار

ان الزامات نے پولیس کے اندر احتساب، شفافیت اور اختیارات کے استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس اہلکاروں اور سماجی حلقوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

متاثرہ خاندان اور شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں، محرر زاہد سمیت متعلقہ افسران کے کردار کی مکمل چھان بین کریں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت کی جانب سے پولیس کو مثالی بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم ایسے واقعات ان دعوؤں پر سوالیہ نشان بن رہے ہیں۔

مزید خبریں