واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 سالہ حملہ آور کول ٹوماس ایلن کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ وہ پہلے عیسائی تھا اور بعد میں عیسائی مخالف بن گیا۔
ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ حملہ آور بیمار ذہن کا حامل ہے، اس کے اہل خانہ کو بھی اس حوالے سے تشویش ہے، شاید انھوں نے پولیس کو اس سلسلے میں رپورٹ بھی کیا تھا۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ حملہ آور کول ایلن کے بہن بھائی بھی اس سے متعلق شکایت کر چکے ہیں، غرض حملہ آور کا خاندان اس شخص سے بہت پریشان تھا۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے میں گرفتار مشتبہ شخص کی شناخت قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار نے کول ٹوماس ایلن کے نام سے کی ہے، جو ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے ایک علاقے کا رہائشی ہے۔
روئٹرز کے مطابق سوشل میڈیا معلومات کے مطابق وہ کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کیلٹیک) کا گریجویٹ ہے اور جز وقتی استاد اور گیم ڈویلپر کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ اہلکار کے مطابق تقریباً 31 سالہ ایلن کیلیفورنیا کے شہر ٹورینس کا رہائشی ہے، جو لاس اینجلس کے قریب ساؤتھ بے کے ساحلی علاقے میں سانٹا مونیکا بے کے ساتھ واقع ہے۔
فیس بک پر سامنے آنے والی پوسٹس کے مطابق، دسمبر 2024 میں ٹورنس میں ’سی 2 ایجوکیشن‘ کے دفتر نے اسے ’’ٹیچر آف دی منتھ‘‘ قرار دیا تھا۔ یہ ادارہ کالج میں داخلے کی تیاری کے لیے نجی ٹیوشن فراہم کرتا ہے۔











