اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) رینل آرٹری سٹیناسس ایک ایسی سنگین طبی حالت ہے جس میں گردوں کو خون پہنچانے والی شریانیں سکڑ یا تنگ ہو جاتی ہیں۔
گردوں کی شریانیں تنگ ہونے کے نتیجے میں گردوں تک آکسیجن اور غذائیت سے بھرپور خون مناسب مقدار میں نہیں پہنچ پاتا، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔
چونکہ گردے جسم سے زہریلے مادے، اضافی نمکیات اور پانی خارج کرنے کا اہم کام انجام دیتے ہیں، اس لیے خون کی روانی میں رکاوٹ پورے جسم کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
گردوں کی کارکردگی کیوں متاثر ہوتی ہے؟
گردے ہر منٹ بڑی مقدار میں خون فلٹر کرتے ہیں اور جسم کے فضلات کو پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔ جب گردوں کی شریانیں تنگ ہو جائیں تو خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے، جس کے باعث گردے صحیح انداز میں فلٹریشن نہیں کر پاتے۔ اس سے نہ صرف جسم میں زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے، اور وقت کے ساتھ گردے ناکارہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
مرض کی علامات
گردوں کی شریانیں تنگ ہونے کی یہ بیماری اکثر خاموشی سے بڑھتی ہے اور ابتدائی مرحلے میں واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ تاہم چند اہم نشانیاں درج ذیل ہو سکتی ہیں۔
کم عمری یا بڑھاپے میں اچانک یا بے قابو ہائی بلڈ پریشر ۔ ادویات کے باوجود بلڈ پریشر قابو میں نہ آنا ۔ خون کے ٹیسٹ میں گردوں کے فنکشن میں خرابی ۔ ٹانگوں، ٹخنوں یا پیروں میں سوجن ۔ پھیپھڑوں میں پانی بھرنے سے سانس میں دشواری ۔ مسلسل تھکن، سر درد، دھندلا نظر آنا یا پیشاب کے رنگ میں تبدیلی ۔ شریانیں تنگ ہونے کی بنیادی وجوہات ہیں
اسلام آباد: صحت کے شعبے میں اصلاحات اور ادارہ جاتی تعاون پر اہم ملاقات
رینل آرٹری سٹیناسس کی سب سے عام وجہ شریانوں میں چربی، کولیسٹرول اور دیگر مادوں کا جمع ہونا ہے، جسے ایتھروسکلروسیس کہا جاتا ہے۔ یہ تہیں شریانوں کی دیواروں کو سخت اور تنگ کر دیتی ہیں۔
دوسری اہم وجہ فائبرومسکلر ڈیسپلاسیا ہے، جس میں شریانوں کی دیواروں کے خلیات غیر معمولی انداز میں بڑھتے ہیں۔ یہ کیفیت زیادہ تر پیدائشی سمجھی جاتی ہے اور نوجوان افراد میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
بڑھتی عمر، ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول، موٹاپا، تمباکو نوشی، ورزش کی کمی اور دل کی بیماری کی خاندانی تاریخ اس مرض کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض خاص طور پر زیادہ محتاط رہیں۔
احتیاط و علاج
اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مستقل ہائی بلڈ پریشر، دائمی گردے کی بیماری، گردوں کی ناکامی، ڈائلیسس کی ضرورت اور جسم میں سیال جمع ہونے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے ان خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔











