واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا کی تازہ تحقیق میں مریخ سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق اس سیارے پر دریا بہنے کے واضح شواہد ملے ہیں۔
سائنسدانوں مریخ کی گہرائی میں ایک وسیع قدیم دریا کے نظام کو دریافت کرلیا، یہ دریافت ناسا کے مشن کے تحت بھیجے گئے روبوٹ پرسیورنس روور نے کی ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ آثار مریخ کے شمالی حصے میں واقع جیزیرو کریٹر میں دریافت ہوئے، جہاں ماہرین کے خیال میں اربوں سال پہلے ایک وسیع جھیل موجود تھی۔
روبوٹ نے زمین کے نیچے موجود تہہ دار ساختوں اور مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا، جن میں کٹاؤ اور بہاؤ کے ایسے شواہد ملے جو کسی قدیم دریا کے جھیل میں گرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ناسا کا 7 برس میں چاند پر نئی بیس تعمیر کرنے کا اعلان
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا یہ ڈیلٹا تقریباً چار ارب سال پرانا ہے اور مریخ کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پانی زندگی کے لیے بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے، اس لیے جہاں پانی کے آثار ملیں وہاں ماضی میں زندگی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مریخ کا قدیم ماحول آج کے مقابلے میں زیادہ گرم اور گھنا تھا، جو مائع پانی کے بہاؤ کے لیے موزوں حالات فراہم کرتا تھا۔ ماہرین کے مطابق جیزیرو کریٹر ایسا علاقہ ہوسکتا ہے جہاں ماضی میں زندگی کے آثار محفوظ ہوئے ہوں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسی روبوٹ کی جانب سے ایک چٹان میں ممکنہ حیاتیاتی نشانات کی نشاندہی کی جا چکی ہے، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی ہونا باقی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کی تاریخ ایک پیچیدہ پہیلی کی مانند ہے اور ہر نئی تحقیق اس کے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد دے رہی ہے۔











