پیرس(روشن پاکستان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارروائیوں کا محور ایران کی تیل کی صنعت کا مرکز خارگ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس جزیرےکی دھمکی دے کر ٹرمپ کیا حاصل کر سکتے ہیں؟
تفصیلات کےمطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو جنگ خاتمے کے معاہدے پر راضی نہ ہونے کی صورت میں جزیرہ خارگ کو مکمل ملیامیٹ کرنے کی دھمکی دی تھی، انہوں نےزمینی کارروائی کے ذریعے اس جزیرے پر بآسانی قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
فرانسیسی تحقیقی مرکز FMES کے پیئر رازوک کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے جنگی اہداف اب بھی مبہم ہیں، اس دھمکی کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنا، حکومتی تبدیلی ،جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام پر دباؤ ہوسکتاہے۔
اسکاٹ لینڈ یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز کے پروفیسر فلپس او برائن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنا اور اور اس قبضے کو برقرار رکھنا دو الگ باتیں ہیں،امریکی فوج کیلئے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رہ کر خارگ پر قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔
ایران میں حکومت تبدیل ہوچکی ہے، ہم نئے لوگوں کیساتھ مذاکرات کررہے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی بینک جے پی مورگن کی ایک رپورٹ کے مطابق جزیرہ خارگ ایرانی ساحل سے30 کلومیٹر دور اور آبنائے ہرمز سے 500کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے ، اس جزیرے پر تیل کا کوئی کنواں نہیں ہے۔











