دادو(کرائم رپورٹر) دادو میں تہرے قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے بعد عدالت کے احاطے میں مبینہ طور پر قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پیپلز پارٹی کے ایم پی اے اور دیگر ملزمان کے باعزت بری ہونے کے بعد ان کے حامیوں کی جانب سے پولیس موبائلوں کی موجودگی میں ہوائی فائرنگ کی گئی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عدالت کے احاطے میں پیش آنے والے اس واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی عمل کسی عام شہری کی جانب سے کیا جاتا تو فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی اور ملزمان کو گرفتار کر لیا جاتا۔
ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کا کیس، تمام ملزمان بری
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں صارفین نے آئی جی سندھ، وزیر داخلہ سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔
یاد رہے کہ ام رباب چانڈیو کیس میں عدالت کی جانب سے تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا، جس نے ایک بار پھر قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔











