دادو(روشن پاکستان نیوز) دادو میں آٹھ سال پرانے تہرے قتل کے مقدمے میں ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے سندھ اسمبلی کے دو ارکان نواب سردار خان چانڈیو اور ان کے بھائی برہان خان چانڈیو سمیت دیگر تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد مدعیہ ام رباب چانڈیو نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک انصاف کے لیے جائیں گی۔ ام رباب نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ “فیصلے سے سرداروں کو لائسنس مل گیا ہے کہ وہ جسے چاہیں قتل کر سکتے ہیں اور ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔” یاد رہے کہ اس مقدمے میں ان کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو جنوری 2018 میں مسلح حملے میں قتل کیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید غصہ اور سوالیہ نشان اٹھائے گئے۔ سید خرم شہزاد نے کہا کہ “یہ ام رباب کی ہار نہیں، یہ ریاست پاکستان کے کریمنل جسٹس سسٹم کی ہار ہے۔ تین انسانوں کے ناحق قتل کا اس طرح ضائع ہونا پولیس اور تفتیشی افسران پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیس میں بے گناہ لوگوں کو کیوں ڈالا گیا اور اصل قاتلوں کا پیچھا کیوں نہیں کیا گیا؟” ظلفی خان نے کہا کہ “اللہ تعالیٰ ظلم کو پسند نہیں کرتا اور وہ ظالموں سے جلد حساب لینے والا ہے۔ قرآن پاک میں وعدہ ہے کہ ظالم کو سزا ضرور ملے گی۔ جو بھی اصل قاتل ہے، اسے اس دنیا اور آخرت میں سزا ملے گی۔” محبوب عالم نے کہا کہ “جس شے کی بنیاد جھوٹ پر ہو، اس کا ناکام ہونا طے ہے۔ اس پورے مقدمے میں حقائق چھپائے گئے۔ میڈیا نے عوام کو گمراہ کیا اور عدالتیں ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔ لعن طعن کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔”
ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کا کیس، تمام ملزمان بری
ماہرین اور عوام کے مطابق اس مقدمے نے پاکستان کے نظام انصاف کی کئی خامیاں بے نقاب کی ہیں۔ قتل کے اصل محرکات اور قاتلوں کی شناخت میں شفافیت کی کمی، ابتدائی تفتیش میں بے گناہ افراد کا نامزد ہونا، اصل قاتلوں کا تعاقب نہ ہونا اور آٹھ سال بعد بھی انصاف نہ ملنا متاثرہ خاندان کے لیے صدمے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ مقدمات میں طاقتور افراد یا سیاسی شخصیات کا اثر بھی انصاف کے عمل پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ مقدمہ نہ صرف ایک خاندان کی جدوجہد کا مظہر ہے بلکہ اس سے نظام انصاف کی کمزوریاں بھی واضح ہوئی ہیں۔ عوام کا غم و غصہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شفاف تحقیقات، جلد سماعت اور ذمہ دار ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی کے بغیر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔











