اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) عالمی بینک سے پاکستان کو تقریباً 38 کروڑ ڈالر کا نیا قرضہ ملنے کا امکان ہے ، ملنے والی رقم توانائی منصوبے پر خرچ کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بجلی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹرانسمیشن لائنز کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عالمی بینک نے تقریباً 38 کروڑ ڈالر کے نئے قرضے کی فراہمی کا اشارہ دے دیا ہے۔
دستاویزات میں بتایا گیا کہ پاور سیکٹر کے اس بڑے منصوبے کی مجموعی مالیت تقریباً 70 کروڑ ڈالر ہے، اس منصوبے میں عالمی بینک کے ساتھ ساتھ ایشین انفرااسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک بھی مالی مدد فراہم کریں گے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بجلی کے نظام کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔
عالمی بینک نے اپنی دستاویز میں نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کا پاور سیکٹر بجلی چوری، کمزور بل وصولی، سسٹم لاسز اور ٹرانسمیشن لائنز کی رکاوٹوں جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے۔
بجلی بلوں کے نام عوام کو کیسے لوٹا جا رہا ہے، ہوشربا انکشافات منظر عام پر
بینک نے زور دیا ہے کہ بجلی کی فراہمی کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ان مسائل کا حل ناگزیر ہے۔
اس منصوبے کے تحت 500 کے وی کی ایک بڑی ٹرانسمیشن لائن مٹیاری سے رحیم یار خان تک بچھائی جائے گی، یہ منصوبہ 2026 سے 2035 تک محیط 10 سالہ پروگرام کا حصہ ہے، جس میں بیٹری اسٹوریج سسٹم اور نئی ٹرانسمیشن لائنز کی تنصیب شامل ہے۔
مالیاتی امداد کے ساتھ ساتھ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپچ کمپنی (NTDC) میں اصلاحات کے لیے تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔
عالمی بینک نے توانائی کے اداروں میں گورننس کی بہتری اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینے پر بھی خصوصی زور دیا ہے تاکہ بجلی کی تقسیم کا نظام عالمی معیار کے مطابق ہو سکے۔











