بلڈ مون کیا ہوتا ہے اور کیوں آتا ہے، کیا قیامت کے دن بھی ہوگا؟

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) بلڈ مون کیا ہوتا ہے اور یہ کیوں ہوتا ہے قرآن اور سائنس کیا کہتے ہیں۔

رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن اختتام پذیر ہوگیا جس کا نظارہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں دیکھا گیا، محکمہ موسمیات کے مطاق چاند نے سرخی مائل رنگ اختیار کرلیا جسے عام طور پر بلڈ مون کہا جاتا ہے۔

نظام شمسی کے تین بنیادی عناصر ہیں جن میں ایک شمس سورج، پھر ہمارا سیارہ یعنی زمین اور پھر چاند ہے۔

ہماری زمین سورج سے تقریباً 15 کروڑ کلو میٹر دور ہے، زمین چاند سے 4 لاکھ کلو میٹر دور ہے جو کوئی فاصلہ ہی نہیں ہے، یعنی چاند زمین کے بہت قریب ہے اور سورج بہت زیادہ دور ہے۔

چاند اور زمین سائز میں ایک جیسے لگتے ہیں لیکن سورج کا ڈائا میٹر 14 لاکھ کلو میٹر ہے، زمین کا ڈائا میٹر 13 ہزار اور چاند کا ساڑھے تین ہزار کلو میٹر ہے۔

سورج زمین سے بہت بڑا ہے، چاند بہت چھوٹا ہے زمین چار گناہ بڑی ہے۔

ہم زمین سے جب سورج اور چاند دیکھتے ہیں تو ایک سائز کے دکھائی دیتے ہیں سورج بہت بڑا ہے اس لیے نظر آتا ہے کہ وہ زمین کے قریب ہے اور چاند زمین سے بہت دور ہے اس لیے ایک جیسا دکھائی دیتا ہے۔

چاند گرہن ایک ایسا فلکیاتی منظر ہے جو کل دیکھا گیا جو اس وقت پیش آتا ہے جب ہماری زمین سورج اور چاند کے بالکل بیچ میں آجاتی ہے جب یہ ہوتا ہے تو زمین کا سایہ چاند پر پڑنا شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سورج کی روشنی چاند تک نہیں پہنچ پاتی اور چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہے چاند سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے تو چاند کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے اس کیفیت کو چاند گرہن کہتے ہیں۔

مکمل چاند گرہن اس وقت ہوتا جب زمین کا سایہ پورے چاند کو ڈھانپ لیتا ہے تو چاند غائب نہیں ہوتا تو وہ سرخ مائل نظر آنا شروع ہوتا ہے کیونکہ سورج کی کچھ روشنی زمین کی سطح سے گھومتی ہوئی چاند تک پہنچ جاتی ہے۔

بلڈ مون اس چاند کو کہا جاتا ہے جو مکمل چاند گرہن کے دوران سرخی مائل دکھائی دیتا ہے، جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آتی ہے، چاند پر سورج کی روشنی چاند تک نہیں پہنچ پاتی البتہ سورج کی کچھ روشنی زمین کی فضا سے گزر کر مڑ جاتی ہے اور اس میں سرخ رنگ کی روشنی چاند تک پہنچ جاتی ہے تو اس وجہ سے چاند ہمیں سرخ یعنی خون جیسا نظر آتا ہے۔

آج رات رمضان المبارک کا چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

اب 31 دسمبر 2028 کو یہ نظارہ دیکھنے کو ملے گا اور یکم جنوری 2029 کو یہ نظارہ دیکھا جاسکے گا۔

قرآن کریم میں چاند گرہن کا تذکرہ آیا ہے، چاند کو روز محشر گرہن لگ جائے گا، سورج اور چاند جمع کردیے جائیں گے، مفسرین بتاتے ہیں کہ چاند بے نور ہوجائے گا اور ان میں گرہن پڑھ جائے گا اور یہ آیت قیامت کے مناظر بیان کررہی ہیں۔

قرآن بتاتا ہے کہ جس کائناتی نظام کے سورج اور چاند چل رہے ہیں اللہ کے ایک اشارے پر یہ سارا نظام ختم ہوجائے گا، چاند گرہن جو کل سب نے دیکھا یہ صرف فلکیاتی منظر نہیں نظام ہے۔

مزید خبریں