تل ابیب(روشن پاکستان نیوز) ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں تل ابیب میں 40 سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اسرائیلی حکام نے ایک خاتون کی ہلاکت اور 25 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتس کی رپورٹ کے مطابق شہر کی بلدیہ نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم 40 عمارتوں کو مختلف نوعیت کا نقصان پہنچا۔ جن میں متعدد رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملے ہفتے کی رات سے اتوار کی صبح تک کیے گئے اور ان میں ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ بعض عمارتیں براہِ راست میزائلوں کی زد میں آئیں۔ جس کے نتیجے میں دھماکے، آگ اور ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ مختلف علاقوں میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور قریبی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
بلدیاتی حکام کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے تحت 200 سے زائد افراد کو ان کے گھروں سے نکال کر شہر کے مختلف ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ متاثرہ عمارتوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ بحالی کے اقدامات پر کام جاری ہے۔
امریکا و اسرائیل کے حملے کے بعد ایرانی صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا
اسرائیلی ہنگامی طبی سروسز کے مطابق حملوں میں ایک خاتون ہلاک جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مختلف رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد 20 سے 28 کے درمیان بتائی گئی ہے۔ جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ حملے مبینہ طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیے گئے۔ جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں مارے گئے۔ تاہم اس حوالے سے مختلف ذرائع سے متضاد اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
تل ابیب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو بم شیلٹرز میں منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔











