تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
باپ/ بیٹے کا رشتہ اور منطقی انجام
دانشور لوگ کہتے ہیں کہ صدیوں سے جتنا ظلم و ستم بچوں کے ساتھ ہوا ہے ویسا تو کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوا
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غلام سے غلام بھی اتنا غلام نہیں ہوتا جتنا کہ یہ بچے ہمارے غلام ہوتے ہیں۔
ہمارے بچے ہمارے غلام اس لیے ہوتے ہیں کہ یہ ہمارے بغیر جی نہیں سکتے۔
ہمارے بنا انہیں دودھ نہیں ملتا
کھانا نہیں ملتا
یہ بھوکے ہوتے ہیں پیار کے،
بھوکے ہیں توجہ کے ،
بھوکے تحفظ کے،
بھوکے ہیں اس لیے ہماری ڈانٹ ڈپٹ سنتے ہیں
لیکن کمزور ہونے کے ناطے کچھ جواب نہیں دے پاتے۔ اوردل ہی دل میں ہمارے بچے ہم سے جان چھڑاتے ہیں۔
اور تو کوئی ہماری سنتا نہیں، ہمارے بیٹے کو ہی ہماری سننا پڑتی ہے اور پھر ہمارے ہر وقت کے مشورے اسے ناگوار گزرتے ہیں تب کون بیٹا اپنے باپ کو معاف کر پاتا ہے۔
دنیا میں کوئی بھی بیٹا اپنے باپ کو معاف نہیں کر پاتا۔
کبھی نہ کبھی، زندگی کی کسی نہ کسی سٹیج پر ،اسے اپنے باپ سے ہمیشہ شکایت رہی ہے۔
چاہے وہ بچپن ہو،
لڑکپن ہو
یا جوانی
زندگی میں کبھی کوئی ایک دور ایسا ضرور آتا ہے جب وہ اپنے باپ سے دل ہی دل میں نالاں رہتا ہے
اور جب اسے موقع ملے گا اپنے باپ کے بڑھاپے میں یا جب ہم بوڑھے ہو جائیں گے، کمزور ہو جائیں گے
اور پھر بالکل بچے جیسے ہو جائیں گے
تو پھر ہمارا بیٹا ہم سے بدلہ لے سکے گا۔
تب چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہم رنجیدہ ہو جایا کریں گے ۔
تب ہم تڑپیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اپنی زندگی تمہارے نام کر دی،
ہم نے کون سا ایسا گناہ کیا ہے جو ہمارے بچے ہمارے ساتھ ایسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں؟
ہم نے تو اپنی زندگی تم پر نچھاور کر دی تو اب ہم سے کس بات کا بدلہ لیتا ہے
لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا
ہم نے یہ سوچا کہ ہم نے اپنے گھمنڈ کو خوب اچھالا ہے۔
جب وہ ننھا منا تھا، بچہ تھا، اسے دنیا کی کسی چیز کی ہوش نہیں تھی،
وہ پتھروں سے، مٹی سے اور تتلیوں سے کھیلتا تھا تو ہم اسے ہمیشہ سمجھایا کرتے تھے
یہ نہ کرو
وہ نہ کرو
اس سے باز آ جاؤ
اس کام سے رک جاؤ
لیکن ہم نے کبھی اپنے بیٹے کو یہ نہیں کہا
کہ یہ کر لو
اس طرح کر لو تو ٹھیک ہو جائے گا
ہم نے اپنے بچے کو ہمیشہ جنٹل مین بنانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے اس کے اندر فیصلہ کرنے کی، قوت اعتمادی کی ،محبت نچھاور کرنے کی کمی رہی،
لیکن باپ بھی کیا کرے؟
باپ یہ سب کچھ اس کی محبت میں کرتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اس کے بیٹے کامستقبل اچھا ہو،
پریشانیوں سے محفوظ ہو،
جو مشکلیں اس نے برداشت کی ہیں وہ اس کے بچے کے پاس نہ آئیں
لیکن
بچہ تو یہ بات نہیں سمجھتا نا
وہ تو اپنے باپ کو اپنا دشمن جانتا ہے
اپنی آزادی کا دشمن،
میں نے کسی باپ کو اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت یا پرورش میں کامیاب نہیں پایا ۔
دنیا کا کوئی بھی باپ ہو، امیر ہو یا غریب ہو
پڑھا لکھا ہو یا جاہل ،
معروف شخص ہو یا گمنام، اپنے بیٹے کی بہترین پرورش کرنے کی تگ و دو میں کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے اور بعد میں گلہ اپنے بیٹے پہ کرتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کی بات نہیں مانتا۔
مجھے ایسے باپوں سے دلی ہمدردی ہے کہ جو اپنی زندگی کی خوشیاں، اپنا وقت، اپنا مستقبل، اپنے بیٹے پر قربان کر دیتے ہیں لیکن پھر بھی دکھی رہتے ہیں۔
باپ اور بیٹے کے رشتے کی درستگی کے لیے میرے پاس کوئی تجویز نہیں۔
اس رشتے میں ازل سے دراڑیں بڑتی رہی ہیں اور ابد تک پڑتی رہیں گی
پڑھنے والوں کا میری رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی مشاہدات مجھ سے مختلف ہوں
بس آپ سب لوگ ایک دوسرے کے لیے دعا کیجئے











