تحریر: وقار نسیم وامق
250 ملین سے زائد انسانوں کا یہ ملک جب اندھیرے میں ڈوبتا ہے تو صرف بلب نہیں بجھتے امیدیں بھی مدھم پڑ جاتی ہیں۔ پاکستان کا ہر گھر ہر گلی ہر شہر ایک ہی سوال دہراتا ہے آخر یہ اندھیرے کب ختم ہوں گے؟
یہ سوال آج کا نہیں یہ سوال اُس دن سے ہمارے ذہن میں ہے جب 1986 میں ایک حکومتی وزیر کا بیان تھا کہ “اسی سال لوڈشیڈنگ ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائے گی”۔ چالیس برس ہونے کو آئے، مگر وہ وعدہ آج بھی بجلی کے کھمبوں پر لٹکا ہوا ہے ٹوٹا ہوا، بوسیدہ اور مذاق بنتا ہوا۔
پاکستان میں بجلی کا بحران ایک مستقل سایہ بن چکا ہے مگر اس بار مسئلہ صرف شارٹ فال کا نہیں ہماری دیانت کی شارٹ فال کا بھی ہے جیسے ہی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا مارکیٹ میں ایک اور تاریکی اُتر آئی، بیٹری مافیا کی تاریکی، چند گھنٹوں میں قیمتیں ہزاروں روپے بڑھا دی گئیں جیسے قوم کی مجبوری ان کے لیے کاروباری موقع ہو۔ یہ مافیا کون ہے؟ کوئی کافر یا غیر ملکی ایجنٹ؟ یقیناً آپ کا بھی جواب ہوگا کہ نہیں یہ “ہم ہیں پاکستانی”۔
یہ مافیا وہی لوگ ہیں جو ہر بحران کو کمائی کا موقع سمجھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ملک کے حکمران ٹھیک نہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر ہم خود ایک دوسرے کے لیے آسانی نہیں بن سکتے تو حکمرانوں سے کیا توقع رکھیں؟
پاکستان کے توانائی بحران پر ماہرین برسوں سے لکھ رہے ہیں کہ حکومتی منصوبہ بندی کا فقدان، بجلی گھروں کی مرمت میں تاخیر، نئے ذرائع اور منصوبہ جات کی کمی، ترسیلی نظام کی کمزوری، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور اداروں کی باہمی کشمکش یہ سب مل کر اس بحران کو جنم دیتے ہیں۔
1986 سے آج تک ہر حکومت نے بجلی کے مسئلے کو “ترجیح” قرار دیا مگر عملی طور پر یہ مسئلہ ہمیشہ فائلوں میں دفن رہا، ملک کی آبادی بڑھتی گئی اور صنعتیں پھیلتی گئیں مگر بجلی کا نظام وہیں کا وہیں رہا۔ یہ وہ نااہلی ہے جس نے پاکستان کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل دیا۔
قومیں اندھیروں سے نہیں بے حسی سے ٹوٹتی ہیں، دنیا کے کئی ممالک نے توانائی کے بحران دیکھے مگر وہاں عوام نے ایک دوسرے کو سہارا دیا ہمارے ہاں بحران آتے ہی لوگ ایک دوسرے کی جیبیں ٹٹولنے لگتے ہیں، حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی، عوام ایک دوسرے کا خون چوسنے لگتے ہیں اور ملک ایک بار پھر اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔
یہ صرف بجلی کا مسئلہ نہیں یہ اجتماعی ناکامی ہے ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کب تک 1986 جیسے ان گنت لاتعداد وعدوں پر زندہ رہیں گے؟ کب تک ہر حکومت کے اعلان کو آخری اعلان سمجھتے رہیں گے؟ کب تک ہر بحران میں ہم خود ایک دوسرے کے لیے بحران بنتے رہیں گے؟
پاکستان کو بجلی سے زیادہ دیانت، منصوبہ بندی، اور اجتماعی شعور کی ضرورت ہے ورنہ یہ اندھیرے صرف گھروں میں نہیں دلوں میں بھی بڑھتے جائیں گے۔ 250 ملین افراد کا یہ ملک اندھیروں کا نہیں بہتر فیصلوں کا منتظر ہے ایسے فیصلے جو قوموں کو روشنی دیتے ہیں، وعدے نہیں!











