کالم: میں اور میرا دوست
تحریر: ندیم طاہر
میں اور میرا دوست کل افطار کے بعد دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ موضوع وہی تھا جو پچھلے چند ہفتوں سے دل پر بوجھ بنا ہوا ہے برطانیہ میں مساجد پر حملے۔ رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے۔ وہی مہینہ جس میں دل نرم ہو جاتے ہیں، آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں، اور انسان اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اس سال فضا میں ایک عجیب سی بے چینی ہے۔
میرے دوست نے مجھ سے پوچھا
کیا واقعی حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں یا ہم زیادہ حساس ہو رہے ہیں؟
میں نے کہا، اگر ایک بھی عبادت گاہ پر حملہ ہو تو وہ خبر ہوتی ہے۔ اور جب پچھلے تین ماہ میں بار بار ایسے واقعات سامنے آئیں، تو وہ محض اتفاق نہیں رہتا ایک رجحان بن جاتا ہے۔
میں نے دوست کو یاد کروایا ایسٹ سسیکس کا واقعہ جب Peacehaven Mosque کو آتش زدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
رات کے اندھیرے میں مسجد کے دروازے پر تیل چھڑک کر آگ لگائی گئی۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، مگر سوال یہ ہے کہ عبادت گاہوں کو جلانے کی نفسیات کہاں سے جنم لے رہی ہے؟ میرا دوست کہنے لگا، آگ صرف دروازے کو نہیں لگی تھی، مسلمانوں کے احساسِ تحفظ کو بھی لگی تھی۔
پھر اسٹاک پورٹ کی ایک مسجد کا ذکر کیا جسے نفرت انگیز گرافِٹی اور توڑ پھوڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ دیواروں پر لکھے گئے الفاظ محض سیاہی نہیں تھے، وہ ایک ذہنیت کی نمائندگی کرتے تھے۔
وہ ذہنیت جو مسلمان کو “دوسرا” سمجھتی ہے، اجنبی سمجھتی ہے۔
لیکن جو خبر کل آئی، اس نے ہمیں زیادہ پریشان کیا۔ مانچسٹر میں رمضان کی تراویح کے وقت ایک شخص ہتھیار نما اشیاء کے ساتھ مسجد میں داخل ہو گیا۔ یہ واقعہ Manchester Central Mosque (Victoria Park) میں پیش آیا۔ بیگ میں کلہاڑی، چاقو اور ہتھوڑا موجود تھا۔ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا، دوسرا فرار ہو گیا۔ کوئی زخمی نہیں ہوا، مگر سوال پھر وہی اگر نمازیوں نے ہمت نہ دکھائی ہوتی تو کیا ہوتا؟
میں نے اپنے دوست سے کہا، “رمضان میں لوگ اللہ کے حضور کھڑے ہوتے ہیں، دنیا کی فکر پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر اب انہیں پیچھے مڑ کر دروازہ بھی دیکھنا پڑ رہا ہے کہ کوئی اندر تو نہیں آ رہا۔”
میرے دوست نے گہری سانس لی اور بولا،
یہ صرف ایک واقعہ نہیں۔ یہ خوف کی فضا ہے جو آہستہ آہستہ پھیل رہی ہے۔”
اعداد و شمار بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ برطانیہ میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے نفرت انگیز جرائم میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے، اور ان میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے واقعات نمایاں ہیں۔ بہت سے واقعات رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔ کمیونٹی کے بزرگ کہتے ہیں کہ پولیس کو بتا بھی دیں تو کیا بدل جائے گا؟
یہ مایوسی خطرناک ہے
میں نے کہا، وزیر اعظم Keir Starmer نے مساجد کی سیکیورٹی کے لیے اضافی فنڈز کا اعلان کیا تھا۔ کروڑوں پاؤنڈز مختص کیے گئے تاکہ CCTV لگے، الارم سسٹم بہتر ہوں، داخلی راستے محفوظ بنائے جائیں۔ یہ قدم خوش آئند ہے۔
میرے دوست نے فوراً جواب دیا،
اعلان اور عمل میں فرق ہوتا ہے۔ لندن کی کئی مساجد کو فنڈز مل چکے ہیں
مگر مانچسٹر کی سینٹرل مسجد وکٹوریہ پارک نے دو ماہ پہلے درخواست دی تھی، ابھی تک انتظار میں ہے۔ خطرہ انتظار نہیں کرتا، بیوروکریسی کرتی ہے۔
یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا “خطرہ انتظار نہیں کرتا۔”
ہم دونوں اس بات پر متفق تھے کہ برطانیہ جیسے ملک میں، جو خود کو کثیر الثقافتی معاشرہ کہتا ہے
وہاں عبادت گاہوں کا غیر محفوظ ہونا ایک سنجیدہ سوال ہے۔ کیا یہ چند شرپسند عناصر کا مسئلہ ہے؟
یا سماجی بیانیہ کہیں نہ کہیں بگڑ رہا ہے؟
میرا دوست اکثر کہتا ہے کہ الفاظ بھی ہتھیار ہوتے ہیں۔ جب میڈیا میں، سیاست میں، یا سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے بارے میں منفی بیانیہ عام ہو جائے، تو کچھ لوگ اسے عملی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ نفرت کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتی، اسے خوراک دی جاتی ہے۔
میں نے اس سے کہا، لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ہر حملے کے بعد مقامی کمیونٹی مسلمان اور غیر مسلم یکجہتی کے لیے جمع ہوتی ہے۔ پھول رکھے جاتے ہیں، پیغامات دیے جاتے ہیں، پولیس گشت بڑھاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ کا ضمیر ابھی زندہ ہے۔”
وہ مسکرایا،
ضمیر زندہ ہے، مگر اسے مضبوط بھی کرنا ہوگا۔
کیا ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے؟
سیکیورٹی فنڈز کی تقسیم شفاف اور تیز ہونی چاہیے۔ ہر مسجد کو معلوم ہونا چاہیے کہ درخواست کے بعد کتنا وقت لگے گا، کس مرحلے پر ہے، اور کب رقم ملے گی۔
ہماری گفتگو ایک اور پہلو کی طرف مڑ گئی
میں نے کہا، اگر نوجوان مسلمان یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں، تو ان کے دل میں اس ملک کے بارے میں کیا احساس پیدا ہوگا؟”
میرے دوست نے سنجیدگی سے جواب دیا،
احساسِ بیگانگی سب سے خطرناک چیز ہے۔ اسے پیدا نہ ہونے دینا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔
ہم دونوں جانتے ہیں کہ برطانیہ میں لاکھوں مسلمان اس ملک کی معیشت، صحت کے نظام، تعلیم اور کاروبار میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مساجد صرف نماز کی جگہ نہیں، بلکہ کمیونٹی سینٹر، تعلیمی ادارے اور فلاحی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہیں۔ ان پر حملہ دراصل سماجی ہم آہنگی پر حملہ ہے۔
رات کافی ہو چکی تھی۔ ہم نے دعا کی کہ اللہ اس ملک کو امن دے، نفرت کے بیج بونے والوں کو ہدایت دے، اور عبادت گاہوں کو محفوظ رکھے۔ مگر دعا کے ساتھ ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔
میں نے جاتے جاتے اپنے دوست سے کہا،
شاید ہمیں لکھنا چاہیے، بولنا چاہیے، سوال اٹھانا چاہیے۔ خاموشی کبھی کبھی مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا،
ہاں، کیونکہ اگر ہم نے اپنی مساجد کے دروازوں کی حفاظت کی بات نہ کی، تو کل شاید ہمیں اپنے گھروں کے دروازوں کی فکر بھی لاحق ہو جائے۔
رمضان امن کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نفرت کا جواب نفرت نہیں، انصاف اور حکمت ہے۔ مگر انصاف صرف تب ہوگا جب ہر شہری خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو خود کو محفوظ محسوس کرے۔
میں اور میرا دوست آج بھی پُرامید ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ برطانیہ کی اکثریت نفرت کے ساتھ نہیں کھڑی۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ امید کو پالیسی، اعلان کو عمل، اور وعدے کو تحفظ میں بدلنا ہوگا۔
کیونکہ مسجد کے دروازے صرف لکڑی اور لوہے کے نہیں ہوتے وہ اعتماد کے دروازے ہوتے ہیں۔
اور اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے جوڑنے میں وقت لگتا ہے۔
رمضان ہمیں یہی سکھاتا ہے: دلوں کو جوڑو، دیواریں مت کھڑی کرو۔











