اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بھکھی شیخوپورہ اور بصیر پور اوکاڑہ میں جلوسوں پر حملہ کرنے والے شرپسند عناصر کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، اس تمام تر کشیدہ صورتحال کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
حالات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دو عزاداروں کے قتل کے مقدمے کو بدنیتی کے ساتھ کمزور کرنے کی سازش ہو رہی ہے، عزاداری سید الشہداء ہماری عبادت ہے اس پر کسی قسم کی قدغن برداشت نہیں کریں گے، پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس کا آئین ہمیں یہ حق دیتا ہے کہ ہم اپنی مذہبی عبادات و رسومات قانونی حدود میں رہتے ہوئے بغیر کسی روک ٹوک کے انجام دیں، محرم الحرام سے پہلے ہماری پنجاب حکومت کے زمہ داران سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔
جس میں انہوں نے بہترین انتظامات کی یقین دہائی کروائی تھی جس کا ہم نے شکریہ بھی ادا کیا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی مقامات پر صدیوں پرانے جلوس عزاء اور مجالس کو روکا گیا، بانیان مجالس کو گرفتار کر کے بے بنیاد ایف آئی آرز کا اندراج کیا گیا، حتیٰ خواتین عزاداروں کو تھانے بلا کر دباؤ اور ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے جلوسوں میں سبیلوں کا اہتمام کیا گیا جسے ہم نے سراہا لیکن اس کے برعکس کئی شہروں میں قدیمی سبیلوں اور جلوسوں کو روکا گیا۔
لاہور اور تلہ گنگ میں علم حضرت عباس اور ذوالجناح کی بے حرمی اور تقدس کو پامال کیا گیا، یہ سب کس کی ایماء اور خوشنودی کے لیے کیا کیا، ان تمام تر بلا جواز اور خلاف قانون رکاوٹوں کے مرتکب پنجاب انتظامیہ کے ذمہ داروں سے بازپرس کی جائے اور عزاداری و پرسہ داروں کے خلاف ظلم و زیادتی میں ملوث اہلکاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
ان تمام غیر قانونی اقدامات اور ناانصافیوں سے عزاداروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے، اس بہیمانہ رویے کے خلاف پوری ملت جعفریہ میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے اس کا فوری ازالہ کیا جائے۔











