اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ترجمان ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ یورپی ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔
ترجمان ایرانی فوج ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کہا کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے ۔ ہم تکلیف دہ حملے کریں گے جن کی کوئی حد نہیں ہوگی۔
ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ جو ملک ایران کیخلاف کارروائی میں امریکا کا ساتھ دے گا وہ بھی شریک جرم تصور کیاجائے گا۔ امریکا اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور ایران کے خلاف جنگ میں جھوٹی کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا نے ایرانی معیشت کو نشانہ بنایا تو امریکی کمپنیوں پر حملے کریں گے، امریکی ڈرلنگ، تجارتی اور کاروباری کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے، امریکی جہاز جہاں کہیں بھی موجود ہوں گے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کے خلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ نے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لیے
محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی معیشت پر امریکی حملے کا جواب امریکی معیشت پر حملے سے دیا جائے گا، ایران نے ہائپرسونک میزائلوں کی رفتار ماک 6 سے بڑھا کر ماک 10 کردی، دفاعی نظام اور الیکٹرانک وار فیئر کو بھی ترقی دی ہے، عرب ممالک امریکا کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں۔











