اتوار,  06  ستمبر 2026ء
خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا، سابق سی آئی اے ڈائریکٹر

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکا کے سابق سی آئی اے ڈائریکٹر ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقی خلیجی ریاستوں میں فعال امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا اب پہلے کی طرح قابل عمل نہیں رہا۔

گلوبل گمبٹ کو انٹرویو میں ڈیوڈ پیٹریاس نے واشنگٹن کے طرزِ عمل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس ٹیکنالوجی ہے لیکن جنگیں جیتنے کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے، امریکی فوج کو تکنیکی برتری حاصل ہے لیکن پینٹاگون کی ناقص حکمتِ عملی نے اس برتری سے مؤثر فائدہ نہیں اٹھانے دیا۔

انھوں نے کہا کہ خلیج کی مشرقی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا شاید اب اتنا عملی نہ رہا ہو جتنا پہلے ہوا کرتا تھا، اور اس کی وجہ جنگ کے بدلتے ہوئے طریقۂ کار میں مضمر ہے، سستے ڈرون انتہائی مہنگے فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

افغانستان میں امریکی افواج کے سابق کمانڈر پیٹریاس نے 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کی بھی مذمت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا ’’میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس وقت افغانستان چھوڑنا ضروری تھا، اور نہ ہی میرا خیال ہے کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے تھا۔‘‘

ایران پر تازہ امریکی حملوں کے بعد دبئی کی پروازوں میں یومیہ 100 پروازوں کی کمی

انھوں نے خلیجی ممالک میں موجودگی سے متعلق کہا کہ خطے میں موجود فوجی اڈے اور اہم انفرااسٹرکچر اب ایک دوسرے کے خلاف دباؤ اور اثر و رسوخ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا امریکا میزائل انٹرسیپٹرز کا نصف استعمال کر چکا ہے، مستقبل میں مہنگے دفاعی نظاموں کی بہ جائے کم لاگت ڈرونز اور جدید جنگی حکمت عملی کی طرف توجہ دینا ہوگی۔

ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا امریکا کو یوکرین کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں مبینہ طورپر روزانہ ہزاروں کم قیمت ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں، یوکرینی فورسز نے ثابت کیا کہ کم لاگت ڈرونز کے ذریعے بھی بڑے اور مہنگے فوجی و معاشی اہداف کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچاس ہزار ڈالر مالیت کے ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے انتہائی مہنگا میزائل انٹرسیپٹر استعمال کرنا معاشی اعتبار سے قابلِ برداشت حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔

مزید خبریں