اتوار,  06  ستمبر 2026ء
اسلام آباد کو نئے گورننس ماڈل میں ڈھالنے کی تیاری، خصوصی کمیٹی نے ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کی بحث کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اعلیٰ سطحی خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے لیے مجوزہ نئے گورننس ماڈل کا ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا ہے، جس پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت اسلام آباد کو ایک نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں دارالحکومت کے شہریوں کو اپنی منتخب اسمبلی اور منتخب چیف ایگزیکٹو دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی نے اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ مجوزہ اسمبلی میں 21 ارکان براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے جبکہ خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

نئے گورننس ماڈل کے تحت اسلام آباد کا اپنا منتخب چیف ایگزیکٹو ہوگا، اس عہدے کو چیف منسٹر یا میئر کا نام دینے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ منتخب چیف ایگزیکٹو اپنی اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

مجوزہ انتظامی ڈھانچے میں اسلام آباد حکومت کے تحت 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات سمیت متعدد شعبوں کو مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم قانون و امن اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ وفاقی حکومت کے پاس رکھنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ دیگر انتظامی معاملات منتخب اسلام آباد حکومت کے حوالے کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت سی ڈی اے سمیت مختلف اداروں کے اختیارات بھی ازسرنو ترتیب دیے جانے کی تجویز ہے تاکہ دارالحکومت میں اختیارات کے بکھرے ہوئے نظام کو ایک مربوط انتظامی ڈھانچے میں تبدیل کیا جاسکے۔

کمیٹی نے اسلام آباد کے لیے جامع قانونی فریم ورک تشکیل دینے اور اس مقصد کے لیے نئی قانون سازی کی سفارش بھی کی ہے ، مجوزہ تبدیلیاں نافذ ہونے کی صورت میں دارالحکومت کے موجودہ گورننس اور انتظامی نظام میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔

خصوصی کمیٹی میں کون کون شامل تھا؟

اسلام آباد کے نئے انتظامی نقشے کی تیاری کے لیے قائم خصوصی کمیٹی میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر مصدق ملک سمیت اہم حکومتی شخصیات شامل تھیں۔

برائن لارا نے بھی سابق وزیراعظم عمران خان کیلئے آواز بلند کردی

کمیٹی میں وفاقی حکومت کے انتظامی اور مالیاتی حکام کو بھی شامل کیا گیا تھا، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری تعلیم نے بھی مجوزہ گورننس ماڈل کی تیاری میں حصہ لیا۔

اس کے علاوہ سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن، کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے بھی کمیٹی کا حصہ رہے۔

نیا اسلام آباد کیسا ہوگا؟

مجوزہ ماڈل کے تحت اسلام آباد کو موجودہ وفاقی انتظامی ڈھانچے کے بجائے زیادہ منتخب اور مقامی نمائندگی پر مبنی نظام دینے کی کوشش کی گئی ہے، اس میں اسمبلی کے ذریعے قانون سازی اور منتخب چیف ایگزیکٹو کے ذریعے انتظامی امور چلانے کا تصور پیش کیا گیا ہے جبکہ بعض اہم معاملات وفاقی حکومت کے پاس برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔

اس طرح اسلام آباد میں منتخب نمائندگی، مقامی انتظامیہ اور اختیارات کی واضح تقسیم کا ایک نیا نظام تشکیل پائے گا تاہم یہ تجاویز فی الحال حتمی فیصلہ نہیں ہیں۔

خصوصی کمیٹی کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جاچکی ہے اور مجوزہ گورننس ماڈل، اختیارات کی تقسیم، اسمبلی کے قیام اور قانون سازی سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ہوگا۔

مزید خبریں