واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی دھمکیوں کے باعث خفیہ پرواز کے ذریعے ترکیے سے واپسی کے واقعے پر لب کشائی کردی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ گزشتہ ماہ ترکیہ سے خفیہ فوجی پرواز کے بعد جس طیارے میں سفر کیا وہ زیادہ خطرے میں تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ طیارہ تبدیل کرتے وقت میں سیکرٹ سروس کی ہدایت پر عمل کررہا تھا، جس طیارے پر سفر کررہا تھا، اسے زیادہ خطرہ ہوسکتا تھا،ایران پر بھروسہ نہیں۔
اس سے پہلےامریکی اخبار نے گزشتہ ماہ نیٹو اجلاس کے بعد امریکی صدر کی ترکیے سے نکلنےکی حیران کن رپورٹ جاری کی تھی۔
ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے خدشات، ٹرمپ کےگالف کلب پر فضائی دفاعی نظام تعینات کردیا گیا
امریکی اخبار نےانکشاف کیا تھا کہ گزشتہ ماہ دورہ ترکیے سے ٹرمپ کی خفیہ واپسی ایران سے ملی دھمکیوں کی وجہ سے ہوئی، انقرہ ائیرپورٹ پر ٹرمپ کیمروں کے سامنے ائیرفورس ون میں سوار ہوئے تھے لیکن ٹرمپ کو خفیہ طور پر ائیرفورس ون سے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے پہنچایا گیا اور ٹرمپ ترکیے سے ائیر فورس کے سی 32 اے طیارے میں برطانیہ پہنچے۔
امریکی اخبار کے مطابق ائیرفورس ون میں صحافیوں کو کھڑکیوں کے شیڈ گرائے رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی، صحافی اور وائٹ ہاؤس کا عملہ یہ سمجھتا رہا کہ ٹرمپ ائیرفروس ون میں ہی موجود ہیں، البتہ یہ واضح نہیں کہ برطانیہ میں ٹرمپ کو واپس ائیرفورس ون طیارے میں کیسے پہنچایا گیا۔











