واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ پر زور دیا ہےکہ آنجہانی سینیٹر لنزے گراہم کے اعزاز میں کرپٹو کرنسی سے متعلق کلیرٹی ایکٹ (Clarity Act) کو منظور کرے تاکہ چین اس میدان میں امریکا سے آگے نہ نکل جائے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹ کو چاہیےکہ وہ سینیٹر لنزے گراہم جو ہمارے بڑے سپورٹر تھے، کے اعزاز میں کلیرٹی ایکٹ منظور کرے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین اور کئی دوسرے ممالک اس بڑے مالیاتی شعبے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے میدان میں بھی سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں اس وقت ہم قیادت کر رہے ہیں لیکن وہ سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ چین کو ان دونوں شعبوں میں کامیاب نہ ہونے دیں۔
خیال رہےکہ امریکا کے ریپبلکن سینیٹر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنزے گراہم ہفتے کے روز انتقال کرگئے تھے۔
لنزے گراہم کے انتقال کے بعد اس بل کی سینیٹ سے منظوری مزید مشکل ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی پہلے سے محدود اکثریت 47-53سے کم ہو کر 47-52 رہ گئی ہے۔ بل کو قانون بننے کے لیے سینیٹ میں 60 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔
کلیرٹی ایکٹ کیا ہے؟
رپورٹ کے مطابق کلیرٹی ایکٹ کرپٹو کرنسی کے شعبے کو باقاعدہ قانونی ضابطوں کے تحت لانے کے لیے پیش کیے جانے والے پہلے جامع قوانین میں سے ایک ہے۔ اس بل کی کرپٹو انڈسٹری اور وائٹ ہاؤس دونوں حمایت کر رہے ہیں، تاہم سینیٹ میں اسے بعض رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
قاتلانہ حملے کی کوشش کی تو امریکی فوج تباہی مچا دے گی: ٹرمپ کی ایران کو وارننگ
ڈیموکریٹک ارکان کا مطالبہ ہےکہ اس قانون میں منتخب عوامی نمائندوں بشمول صدر ٹرمپ کے لیے مزید سخت اخلاقی ضوابط شامل کیے جائیں، کیونکہ ٹرمپ ڈیجیٹل کرنسیوں سے اربوں ڈالر کما چکے ہیں۔
کرپٹو کرنسی سے وابستہ بڑی امریکی کمپنیاں کلیرٹی ایکٹ کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ واضح قانونی ضابطوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھےگا اور اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری آئے گی۔











