منگل,  14 جولائی 2026ء
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا مونال ریسٹورنٹ  گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

مارگلہ ہلزمیں واقع مونال ریسٹورنٹ کوعدالتی حکم پرگرانے کےمقدمےمیں اہم پیشرفت سامنےآئی ہے،وفاقی آئینی عدالت نےسپریم کورٹ کاسابقہ فیصلہ کالعدم قراردیتےہوئے قراردیا ہےکہ زمین کی ملکیت کافیصلہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔

وفاقی آئینی عدالت نےسی ڈی اے اورمیٹروپولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظورکرتےہوئےقراردیاکہ زمین کی ملکیت کامقدمہ تاحال سول کورٹ میں زیر التوا ہے،اس لیےاس معاملےکا فیصلہ ٹرائل کورٹ ہی کرے گی اوروہ بھی سپریم کورٹ کی سابقہ آبزرویشنزسےمتاثر ہوئےبغیر،عدالت نےٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ زیر التوا مقدمات جلدنمٹائےجائیں،جبکہ انتظامی نوعیت کےمعاملات متعلقہ ریگولیٹری اداروں کےسپردکیے جائیں۔

سماعت کےدوران جسٹس حسن اظہر رضوی نےریمارکس دیےکہ سابق فیصلےمیں کئی اہم قانونی نکات زیرغورنہیں آئے،عدالت جذبات نہیں بلکہ قانون کےمطابق فیصلے کرتی ہے،فیصلوں میں غیرمتعلقہ باتوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے،سابقہ فیصلےمیں کئی ایسی آبزرویشنز شامل تھیں جو عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں تھیں۔

سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسیت کے خلاف مؤثر نظام بنانے کا حکم

واضح رہے کہ 11 جون 2024 کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تجارتی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مونال ریسٹورنٹ کو گرانےکاحکم دیاتھا،جس پر عملدرآمد کرتےہوئےریسٹورنٹ کو منہدم کردیاگیاتھا،اب وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد اس مقدمے نے ایک نیا قانونی رخ اختیار کر لیا ہے۔

مزید خبریں