پیر,  13 جولائی 2026ء
( میں جس کی چاہے زندگی برباد کر دوں)
عنوان ہے، زندگی کا خوف

 تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

( میں جس کی چاہے زندگی برباد کر دوں)

جی ہاں میں نے بالکل ٹھیک لکھا اور آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا ہے۔
میں جس کی چاہے زندگی برباد کر سکتا ہوں اور یہ ایک محض دعوی نہیں ہے، یہ سب میں جب چاہے کر سکتا ہوں،
آپ یقینا سوچتے ہوں گے کہ میں نے کتنی بیوقوفی کی بات کی ہے اور آپ اسے کفریہ کلمات گردان سکتے ہیں لیکن میرا یہ دعوی بڑا سچائی پر مبنی ہے،
مجھے یقین ہے کہ میں جب چاہوں لوگوں کی زندگیوں سے کھیل لیتا ہوں۔
میرے علاوہ صرف دو ہی شخصیتیں ہیں جو یہ کام بخوبی سرانجام دے سکتی ہیں۔
ایک خدا ہے جو کسی کو عرش سے فرش پر لے آتا ہے اور دوسرا
شیطان ،جو لوگوں کو برائیوں، گناہوں، جرموں پر راغب کر کے انہیں تباہ کرتا ہے اور ایک میں ہوں جو جب چاہیے کسی کی زندگی برباد کرتا ہوں ۔
اب آپ دیکھ لیں اور فرض کریں کہ آپ کے دو بچے ہیں جو ابھی بہت چھوٹے ہیں ،ان کی خواہش ہے کہ ان کو ٹافیاں، چاکلیٹس اور کھلونے ملیں اور آپ انہیں اکثر یہ چیزیں دے نہیں پاتے۔
اب میں یہ کرتا ہوں کہ جب بھی آپ کے بچوں سے ملاقات ہوتی ہے یا میں آپ کے گھر آتا ہوں یا آپ لوگ ہماری طرف آتے ہیں تو میں آپ کے چھوٹے، ننھے منے! معصوم بچوں کو دکان پہ لے جاتا ہوں، ان کی پسند چیزیں 500/ 1000 روپے کی لے دیتا ہوں۔ اب تو بچوں کو میں بہت اچھا لگنے لگا ہوں اور وہ انتظار کرتے ہیں کہ وہ کب شہریار انکل کے گھر جائیں گے یا شہریار انکل ان کے گھر آئیں گے تو ان کو چاکلیٹس، بسکٹس اور سویٹس دیں گے۔
اب چونکہ میں نے ان کی زندگی برباد کرنی ہے لہذا میں بھی اسی طاق میں ہوں کہ ان معصوموں سے ملاقات ہو۔
اگلی ملاقات پر میں وہی ایکسرسائز دوبارہ کرتا ہوں، میں جا کر ان کے لیے بیگ فل آف سویٹس لے آتا ہوں ،صرف چار پانچ بار بچوں کی عادت خراب کرنی ہے اس کے بعد بچے اپنے ماں باپ کے لیے وبال جان بن جائیں گے، اپنے ماں باپ سے ضد کریں گے، ہم نے یہ چیزیں لینی ہیں، ہمیں یہ کھلا دو۔
ایک تو بچوں کی صحت خراب، دوسرا ان کی عادتیں خراب اور تیسرا والدین کی بے بسی اور مفلسی، واہ واہ واہ کیا مزہ آیا زندگی خراب کر دی نہ میں نے ان کی ۔
حضرت علی نے فرمایا تھا بچپن میں ہم بچوں کی عادتیں بگاڑتے ہیں، پھر زندگی بھر، عادتیں بچوں کو بگاڑتی ہیں۔

ایک دفتر میں میرا آنا جانا ہے جو دو بھائیوں کا مشترکہ کاروبار ہے۔ ایک بھائی مارکیٹنگ کرتا ہے دوسرا دفتر سنبھالتا ہے۔
میں کبھی باتوں باتوں میں ،کبھی مذاق میں ایک بھائی کو احساس دلاتا ہوں کہ دفتر کا زیادہ خرچہ، اے سی! یوٹیلٹی بلز، فوڈ آئٹمز تو تمہارا دوسرا بھائی انجوائے کر رہا ہے اور خرچہ تم دونوں کا برابر ہوتا ہے ۔
بس صرف اتنی سی مختصر سی بات سے میں نے ان دونوں میں دلوں میں پھوٹ ڈال دی ہے۔
اب وہ جب بھی بیٹھے گا اس کو خیال آئے گا کہ میں تو سارا دن باہر ہوتا ہوں،وہ جو آفس میں بیٹھا انجوائے کر رہا ہے خرچہ بھی اس کا زیادہ ہے اور پرافٹ میں بھی برابر کا حصہ، تو اسطرح میں اب اپنے دوسرے ٹارگٹ کو شکار کر لیتا ہوں۔
ایک خاتون کسی ادارے میں کام کرتی ہے۔ اس کی اپنے شوہر سے بالکل نہیں بنتی لیکن چونکہ وہ میری کولیگ ہے اس لیے میں گاہے بگاہے ،موقع دیکھ کر! کبھی اس کے کپڑوں کی، کبھی اس کے کام کی، کبھی اس کی صلاحیتوں کی تعریف کر دیا کرتا ہوں۔
میاں بیوی کے رشتے میں پھوٹ ڈالنے کے لیے میرے یہ چند جملے ہی کافی ہوتے ہیں۔
ہمارے آفس میں ایک راؤنڈ ٹیبل ہے جس میں سات آٹھ لوگ خبریں ٹرانسلیٹ کرتے ہیں اور ایک سپروائزر ہیں ۔
کبھی کبھار میں ایک دو لوگوں کو یہ کہہ دیا کرتا ہوں کہ سب سے اچھی ٹرانسلیشن آپ کی ہے۔ آپ کی خبروں کی کنسٹرکشن، آپ کا انداز بیاں، باقی سب لوگوں سے بہتر ہے لیکن آپ کی ڈیوٹیاں کم لگتی ہیں، اسی لئے آپ کے حالات خراب ہیں۔ ان لوگوں کو بے سکون کرنے اور ان کی زندگی برباد کرنے میں میرا بہت دخل ہے کیونکہ اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ اکثر گلا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ شہریار صاحب یہاں تو زندگی گزار دی ہمیں کوئی صلہ نہ ملا۔
اس مینجمنٹ نے، اس ادارے نے ہمیں کیا دیا اور میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وہ یہ باتیں، میرے ان جملوں کے بعد کرنے لگے ہیں جب میں نے انہیں یہ احساس دلایا تھا کہ وہ سب سے بہتر لکھتے ہیں لیکن یہاں ان کی کوئی پذیرائی نہیں۔
میں ایک فیملی کو جانتا ہوں جن کی آپس میں کئی سالوں سے چپقلش چل رہی ہے۔
میں کیونکہ دونوں کے کلوز ہوں تو جب کبھی شوہر سے ملتا ہوں تو اسے احساس دلاتا ہوں کہ تم صحیح ہو اور عورت ناقص العقل ہوتی ہے،اس نے تمہاری زندگی تنگ کر دی ہے۔
اور جب کبھی اس کی زوجہ سے ملاقات ہو جائے تو اس سے ہمدردی کرتا ہوں کہ صبر کرو بہن، لوگوں کے ہسبینڈ اس سے بھی برے ہوتے ہیں۔ تمہارے نصیب میں جو ہے سمجھو کہ ایسا ہی تھا۔ میں جانتا ہوں کہ تم مظلوم ہو لیکن کیا کروں تمہارے شوہر کو کئی بار سمجھایا ہے لیکن وہ نہیں سمجھ پائے۔
میری یہ باتیں اتنی مستحکم اور پائیدار ہوتی ہیں کہ جو ہر انسان کے ذہن میں گھر کر لیتی ہیں اور ان سے نکالے نہیں نکلتیں۔
پھر ان کے نتائج ویسے ہی نکلتے ہیں جیسا کہ میں سوچتا ہوں۔
اس کے برعکس اگر میں کسی کی اچھائیاں بیان کروں، اگر میں کسی کو حوصلہ دوں، کسی مشکل وقت میں اپنے آپ کو کیسے سنبھال کے رکھنا ہے یہ بتاتا پھروں، کسی سے یہ کہوں کہ کوئی بات نہیں مشکل کے لمحات ہیں یہ وقت بھی گزر جائے گا، دنیا میں اچھے برے وقت آتے ہی رہتے ہیں، خدا پر بھروسہ رکھو اور یہ وقت گزار لو، اللہ بہتر کرے گا۔ لیکن یقین مانیں میری ان باتوں کا کسی پر اس وقت تک ہی اثر ہوگا جتنی دیر 5 یا 10 منٹ اس کے ساتھ بیٹھوں گا۔ اس کے بعد پھر وہی مایوسی ،ناکامیابی اور ناکامرانی کی باتیں اس کے ذہن میں رہتی ہیں کیونکہ ہم خدائی وعدوں سے زیادہ، شیطانی باتوں کا اثر لیتے ہیں۔

میں نے کہا نا کہ میں جس کی چاہے زندگی برباد کرتا ہوں ۔

اور آخر میں نہایت اہم بات۔ وہ یہ کہ برے وقت کا کوئی بھروسہ نہیں، کہیں کبھی کسی جگہ آپ سے ملاقات نہ ہو جائے لہذا میرے جیسے شیطانوں سے بچیں جو ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر ،آپ کی زندگیاں خراب کرتے ہیں۔

مزید خبریں