معاہدے پر برطانوی وزیراعظم کا موقف بھی آگیا

لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کے قیام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ، پاکستان اور قطر سمیت دیگر ممالک کے ثالثوں کو اس اہم پیش رفت میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی کے خواہاں تھے اور یہ وہ پیش رفت ہے جس کی ہمیں امید تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم واضح کرتے ہیں کہ اب آبنائے ہرمز میں بلامعاوضہ اور آزادانہ جہاز رانی کی بحالی ناگزیر ہے، تاکہ گذشتہ کئی ماہ سے برطانیہ اور دنیا بھر پر پڑنے والے شدید معاشی اثرات میں کمی آ سکے۔‘

برطانیہ نے امریکا ایران معاہدے کے نفاذ میں مدد کی پیشکش کر دی

سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس عمل کی حمایت جاری رکھیں گے، جس میں ضرورت پڑنے پر دفاعی اور خودمختار کثیرالجہتی مشن کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے، جس کی منصوبہ بندی میں برطانیہ اور فرانس اب تک قائدانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں، خصوصاً بارودی سرنگوں کی صفائی کے حوالے سے متفقہ تعاون فراہم کرنے کے لیے۔‘

انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’پائیدار امن کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ کیے گئے وعدے، بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق، مضبوط، قابلِ تصدیق اور مکمل طور پر نافذ العمل ہوں۔ برطانیہ کا مؤقف مستقل اور واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔‘

مزید خبریں