اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر نے الیکشن کمیشن سے شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ۔
ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی آزادجموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یسین نے پیپلز پارٹی آزادجموں و کشمیر کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد جموں کشمیر ہاؤس میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پرقانون ساز اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار محمد ہعقوب خان ،موسٹ سینئر وزیر میاں وحید وزراء حکومت سردار جاوید ایوب ،جاوید اقبال بڈھانوی ،سردار ضیاءاالقمر ،چوہدری قاسم مجید ،چوہدری یاسر سلطان ،محترمہ تقدیس گیلانی، ترجمان وزیراعظم شوکت جاوید میر،ڈی جی پولیٹیکل افیئرز عامر ذیشان جرال ،پولیٹیکل۔اسسٹنٹ سید عزادار حسین کاظمی ، صاحبزادہ ذوالفقار علی ، شاہین کوثر ڈار بھی موجود تھے ۔چوہدری محمد یسین نے کہا کہ اس وقت ریاست کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سیاست کا مرکز و محور ہمیشہ مسئلہ کشمیر رہا ہے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران عوامی مسائل کے حل اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات پر عملدرآمد بھی ہو چکا تھا، صرف مہاجرین نشستوں سے متعلق آئینی معاملہ زیر غور تھا جس کے حل کے لیے متبادل قانونی اور آئینی راستے موجود ہیں۔چوہدری یاسین نے کہا کہ احتجاجی کال سے محض تین روز قبل مہاجرین نشستوں کے انتخابات کا شیڈول جاری کرنا مناسب فیصلہ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے دوران تمام فریقین نے مثبت رویہ اختیار کیا اور عوامی ایکشن کمیٹی سے صرف ایک ہفتے کی مہلت طلب کی گئی تھی، تاہم یہ درخواست قبول نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے، اس لیے الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول واپس لے کر مشاورت کے عمل کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی قسم کی محاذ آرائی یا تصادم کی حامی نہیں اور بارہ مہاجرین نشستیں انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دشمن قوتیں، خصوصاً بھارت، حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور ریاست اس وقت سنگین مشکلات اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، لہٰذا تمام مسائل کا حل مذاکرات، سیاسی ہم آہنگی اور جمہوری عمل کے تسلسل میں مضمر ہے۔قانون ساز اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ حالات کو سازگار بنانے کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ،انتخابات انسانی جانوں سے زیادہ اہم نہیں ہیں ،عجلت میں کئے گئے غیر دانشمندانہ فیصلے سے حالات اس نہج تک پہنچے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے اور عوام کے پرامن مطالبات پر غور کرنے کے حق میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ انتخابی شیڈول فوری طور پر واپس لے کر مفاہمت کی راہ کو ہموار کرنے کی کوشش از حد ضروری ہے ۔اس موقع پر سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ریاست کو بچانا سب سے اہم ضرورت ہے اور آزاد کشمیر مزید کشیدگی اور تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا قابل قبول حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے، کشمیریوں کی پاکستان سے محبت اور وابستگی آج بھی اسی طرح مضبوط ہے اور بھارت کبھی بھی پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ میاں عبدالوحید نے کہا کہ شہداء اور متاثرین سب ہمارے اپنے ہیں، اس لیے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے سیاسی جماعتوں، عوام اور اوورسیز کشمیریوں کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی مفاد کو مقدم رکھا جائے اور موجودہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات، افہام و تفہیم اور مشاورت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ تمام فریقین مل بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں اور موجودہ حالات کے پیش نظر انتخابات کو مؤخر کیا جائے۔











