اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) پاکستان کی مرکزی قیادت کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔ پریس کانفرنس کی صدارت اگیگا پاکستان کے چیف کوآرڈینیٹر رحمان باجوہ نے کی جبکہ مرکزی صدر راجہ طاہر محمود، مرکزی چیئرمین حیدر علی خان ، آگیگا خیبرپختونخوا سے سمیع اللہ خلیل بابائے آگیگا، چیئرمین پروفیسر عبد الحمید آفریدی, جنرل سیکرٹری سید وقار علی شاہ، آگیگا پنجاب سے چیئرمین حافظ غلام محی الدین ، صدر میڈم رخسانہ انورا، ندیم احمد اشرفی سرپرست اعلیٰ آگیگا پنجاب اور آگیگا پاکستان میں شامل دیگر وفاقی و صوبائی تنظیموں کے نمائندگان، مختلف محکمہ جات کے قائدین اور ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداران بھی شریک ہوئے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 10 مارچ 2025ء کو آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) پاکستان اور حکومت پاکستان کے درمیان سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل اور مختلف مراعات کی فراہمی کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کی بعض اہم شقوں پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاہدے کی باقی ماندہ شقوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور انہیں آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27ء کا حصہ بنایا جائے۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور معاشی دباؤ کے باعث سرکاری ملازمین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لہٰذا ان کے جائز مطالبات کو وفاقی بجٹ 2026-27ء میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کر کے ان مسائل کا مؤثر حل یقینی بنایا جائے۔
اگیگا پاکستان نے حکومت پاکستان کے سامنے درج ذیل بجٹ مطالبات پیش کیے:
1. تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے اور پے اسکیل 2026 متعارف کرایا جائے۔
2. پینشن میں جامع اصلاحات کے نام پر نافذ کیے گئے اقدامات واپس لے کر پینشن کا موجودہ نظام بحال رکھا جائے اور سرکاری ملازمین کے پینشن حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
3. تنخواہوں میں تفاوت کو کم کرنے کے لیے معاہدے کے طے شدہ نکات شق نمبر 1 کے تحت مزید 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA-2026) محروم ملازمین کو دے کر انکی محرومی کا مداوہ کیا جاے۔
4. گریڈ 1 تا 22 کے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 کا اضافہ کیا جائے، بشمول دیگرپےسکیلزیعنی MPS ، SPS اور TTS کیٹیگریزوغیرہ۔
5. 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد جبکہ دیگر تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔
6. گریڈ 1 تا 22 کے تمام ملازمین کے کنوینس، میڈیکل اور رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافہ کیا جائے۔
7. معاہدے کی شق نمبر(b) 7 کے تحت ٹیچرز اور ریسرچرز کا 25 فیصد ٹیکس سلیب تاریخ اجرا سے فل فور واپس لینے کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کروایا جائے اور ٹیکس کی مد میں کاٹی گئ رقم کی واپسی کے حوالے سے ضابطہ کار طے کرنے کے حوالے سے FBR اور AGPR کو ہدایات جاری کی ا جائے۔
8. مزدور کی کم از کم اجرت 50 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے۔
9. معاہدے کی شق نمبر8 کے مطابق پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج کے تحت دوران سروس فوت ہو جانے والے ملازم کے بچوں کی بھرتی جو ختم کر دی گئی ان بھرتیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے ۔
10. معاہدے کی شق نمبر(a) 6 کے مطابق ملازمین کی ابگریڈیشن کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن،فنانس ڈویژن اور اگیگا پاکستان کے نمائندوں پر مشتمل ایک جوائنٹ کمیٹی بنائی جائے جو ملازمین کی اپگریڈیشن کے حوالے سے دیگر صوبوں کی طرز پر سفارشات مرتب کر کے بروقت ضروری اقدامات/ ہدایات جاری کریں ۔
11. معاہدے کی شق نمبر 3(b) کے مطابق لیو انکیشمنٹ کے حوالے سے اور پنجاب ملازمین کے دیگر مطالبات کو حل کروانے کے لیے پنجاب حکومت سے بات کی جائے اوراگیگا پنجاب ملازمین کے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کے مطابق ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔
12. معاہدے کی شق نمبر پ5 کے مطابق ڈیلی ویجز کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولرائزیشن کے حوالے سے کمیٹی جس کے سربراہ جناب وفاقی وزیر علی پرویز ملک صاحب ہیں اس کمیٹی کی فل فور میٹنگ بلائی جائے جس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نمائندوں کو بلایا جائے۔
13. معاہدے کی شق نمبر 4 کے مطابق تعلیمی اور دیگر سرکاری ادارے جو کہ نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں آگیگا پاکستان میں شامل ان اداروں کے قائدین اور متخب حکومتی نمائندگان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو کہ اداروں کی بہتری کے لیے اپنی سفارشات اور تحفظات ان کمیٹیوں کے ذریعے حکام بالا تک پہنچا سکیں۔
مقررین نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں سرکاری ملازمین شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں اور اگر ان کے مسائل کو بجٹ میں مناسب طور پر حل نہ کیا گیا تو ملازمین میں بے چینی مزید بڑھے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ سازی کے عمل میں ملازمین کے نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) پاکستان نے واضح کیا کہ اگر ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اگیگا پاکستان میں شامل ملک بھر کی تمام تنظیمیں وفاقی بجٹ سے ایک روز قبل، مورخہ 4 جون 2026ء کو پاکستان سیکرٹریٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پرامن احتجاج اور دھرنا دینگے جو بجٹ کے دن مورخہ 5جون 2026ء تک جاری رہے گا۔











