اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے آئندہ بجٹ میں ریٹیلرز، رئیل اسٹیٹ،زراعت اور صنعتوں کیلئے آسان ٹیکس نظام لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجروں کیلئے اردو میں ایک صفحے پر مشتمل آسان ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کرایا جائے،ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والے تاجروں کو فرض شناس ٹیکس گزار” کی شیلڈ یا پلیٹ دی جائے ،ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کو ایف بی آر ہراساں نہ کرے ،5.1فیصد کم از کم ٹرن اوور ٹیکس کا اطلاق ختم کیا جائے ،سپر ٹیکس فوری ختم اور سیلز ٹیکس سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے،آسان ٹیکس اسکیم اختیار کرنے والے تاجروں کا آڈٹ نہ کیا جائے اورجائیداد اور گاڑیوں کے بارے میں بلاوجہ پوچھ گچھ نہ کی جائے، ،نان فائلرز کو مرحلہ وار جرمانوں کے بعد دکان سیل کرنے کا نظام متعارف کرانے کی تجویزایف بی آر کو آسان ٹیکس اسکیم کامیاب بنانے کا ہدف دیا جائے،جیولرز کیلئے الگ الگ کیٹگریز اور آسان نظام متعارف کرایا جائے،شرح سود، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے،موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکسز کم اور آئی ٹی سیکٹر کو سہولیات دی جائیں،ایف بی آر کے چھاپوں، گرفتاریوں اور لامحدود اختیارات کو محدود کیا جائے ،عید کے بعد لاک ڈاؤن ختم اور کاروباری سرگرمیاں مکمل بحال کی جائیں ،صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے ان خیالات کا اظہار سرپرست اعلی مرکزی تنظیم تاجران پاکستان خواجہ شاہد رزاق سکہ، چیئرمین کراچی سندھ تاجر اتحادشیخ حبیب، صدر صوبہ پنجاب اور صدر انجمن تاجران رجسٹرڈ راولپنڈی شرجیل میر، شرافت علی مبارک صدر مرکزی تنظیم تاجران صوبہ خیبر پختون خواہ ، جاویدمیمن قائم مقام صدر مرکزی تنظیم تاجران صوبہ سندھ ظاہر شاہ صدر مرکزی تنظیم جنرل سیکرٹری مرکزی تنظیم تاجران صوبہ خیبر پختون خوا شیخ سعید و دیگر تاجر راہنماؤں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انکا مزید کہنا تھا کہ20 کروڑ سالانہ ٹرن اوور تک کے تاجروں کیلئے آسان اور سادہ ٹیکس اسکیم لائی جائے، نئے اور پرانے فائلرز کو بھی آسان ٹیکس اسکیم میں شامل ہونے کا اختیار دیا جائے۔ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والے تاجروں کو فرض شناس ٹیکس گزار” کی شیلڈ یا پلیٹ دی جائےجس تاجر کے پاس فرض شناس ٹیکس گزار شیلڈ یا پلیٹ ہو اسے ایف بی ار تنگ نہ کرے ، ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کو ایف بی آر ہراساں نہ کرے کا،آسان ٹیکس اسکیم اختیار کرنے والے تاجروں پر پوائنٹ آف سیل اور ڈیجیٹل انوائسنگ کا اطلاق نہ ہو۔اسکیم کے تحت تاجروں پر ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی ذمہ داری ختم کی جائے،5.1 فیصد کم از کم ٹرن اوور ٹیکس کا اطلاق ختم کیا جائے ،آسان ٹیکس اسکیم اختیار کرنے والے تاجروں کا آڈٹ نہ کیا جائے،ظاہر کردہ ٹرن اوور پر صرف25.0سے 50.0 فیصد ٹیکس مقرر کیا جائے، بجلی، فون اور دیگر مد میں کٹے ودہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے ،کم از کم سالانہ 25 ہزار روپے ٹیکس پر بھی اتفاق کیا جا سکتا ہے،آسان اسکیم اختیار کرنے والوں کی جائیداد اور گاڑیوں کے بارے میں بلاوجہ پوچھ گچھ نہ کی جائے،بینک اکاؤنٹس میں غیر معمولی ٹرانزیکشنز پر کارروائی تاجر نمائندوں کی مشاورت سے ہو۔آئندہ سالوں میں بھی آسان ٹیکس اسکیم جاری رکھی جائے اور آڈٹ سے استثنیٰ دیا جائے ،نان فائلرز کو مرحلہ وار جرمانوں کے بعد دکان سیل کرنے کا نظام متعارف کرائی جائے،ایف بی آر کو آسان ٹیکس اسکیم کامیاب بنانے کا ہدف دیا جائے، ٹیئر ون ریٹیلرز کی موجودہ تعریف اور شرائط میں تبدیلی کی جائے،ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں پر پوائنٹ آف سیل لازمی قرار نہ دیا جائے بجلی کے سالانہ 12 لاکھ کے بل کی حد بڑھا کر 20 لاکھ کرنے کا مطالبہ ائرکنڈیشنڈ مالز میں صرف برانڈز اور چین اسٹورز پر پوائنٹ آف سیل نافذ کیا جائے،کاشف چوہدری نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر عائد ٹیکسز 236C اور 236K کو ایک فیصد تک کم کرنے کی تجویز دیدی،سیکشن 7E ختم اور ایف بی آر جائیداد ویلیو کم از کم 40 فیصد کم کی جائے،اوورسیز پاکستانیوں کو جائیداد خریدنے پر خصوصی ٹیکس ریلیف دیا جائے۔جیولرز کیلئے الگ الگ کیٹگریز اور آسان نظام متعارف کرایا جائے،موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکسز کم اور آئی ٹی سیکٹر کو سہولیات دی جائیں ،سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے کاروباری آسانیاں پیدا کی جائیں ،شرح سود، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے، سپر ٹیکس فوری ختم اور سیلز ٹیکس سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے، خام مال کی درآمد پر ڈیوٹیز کم اور صنعتوں کیلئے سہولیات بڑھانے کی تجویزایف بی آر کے چھاپوں، گرفتاریوں اور لامحدود…











